ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) فیصل آباد عثمان اظہر نے کہا ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں کو درپیش ماحولیاتی اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت اور مسلسل رابطے کی ضرورت ہے۔
ماحولیاتی مسائل صنعتکاروں سے مل کر حل کیے جائیں گے، عثمان اظہر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 27 اگست (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) فیصل آباد عثمان اظہر نے کہا ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں کو درپیش ماحولیاتی اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت اور مسلسل رابطے کی ضرورت ہے۔ ہوزری سیکٹر کے صنعتکاروں کی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے EPA ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PHMA) نارتھ زون فیصل آباد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ EPA کا مقصد صنعتکاروں کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے صاف اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ ہوزری سیکٹر کے ممبران کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اور وہ اپنے ماحولیاتی و تکنیکی مسائل کے حل کے لیے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ، پائیدار پیداوار اور ماحول دوست سپلائی چین پر توجہ بڑھ رہی ہے، اس لیے پاکستانی صنعتوں کے لیے قومی قوانین کے ساتھ بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کو اپنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں تقریباً 1100 جبکہ لاہور میں تقریباً 600 بوائلرز کام کر رہے ہیں، اس لیے بوائلرز سے متعلق ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے جدید اور مؤثر ایمیشن کنٹرول سسٹمز اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے صنعتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی صنعتوں کے ایمیشن کنٹرول سسٹمز کا جائزہ لیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دھوئیں اور کاربن ایمیشن کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا رہا ہے اور اپنی فیکٹریوں میں بھی بہتر نظام متعارف کرائیں۔ انہوں نے فیکٹریوں میں کیمروں کی تنصیب اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی کی تجویز کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے مانیٹرنگ کے عمل میں شفافیت اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس موقع پر سینئر وائس چیئرمین PHMA فیصل آباد احمد افضل اعوان نے کہا کہ اگر EPA کو کسی ممبر فیکٹری سے متعلق شکایت ہو تو براہ راست کارروائی سے قبل ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹری سیل ہونے سے نہ صرف پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی مشکل ہو جاتی ہے جس سے آرڈرز منسوخ ہونے اور ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعت پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں، عالمی مسابقت اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ اس لیے کسی بھی فیکٹری کے خلاف سیلنگ کی کارروائی سے قبل باقاعدہ نوٹس جاری کیا جائے، خلاف ورزی کی واضح نشاندہی کی جائے اور اصلاحی اقدامات کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعت ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور EPA کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ صنعتی پیداوار اور برآمدات کا تسلسل بھی برقرار رہنا چاہیے۔
اس موقع پرالطاف خان، ڈائریکٹر صداقت کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے صنعتی بوائلرز میں سولڈ فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والے دھوئیں اور ایمیشن کا مسئلہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث صنعت کو کوئلہ اور دیگر سولڈ فیول استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بوائلر سسٹمز کے ڈیزائن کے باعث اسٹارٹ اپ اور شٹ ڈاؤن کے دوران عارضی طور پر دھواں پیدا ہوتا ہے جبکہ بجلی کی بندش یا تکنیکی خرابی کے بعد سسٹم دوبارہ چلانے کے مرحلے میں بھی ایمیشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے تکنیکی مسائل کی صورت میں فیکٹری کو فوری طور پر سیل کرنے کے بجائے پہلے مسئلے کی نوعیت کا جائزہ لیا جائے، صنعتکار کو آگاہ کیا جائے اور اصلاح کا مناسب موقع فراہم کیا جائے تاکہ ماحولیاتی تقاضے بھی پورے ہوں اور صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں۔سابق چیئرمین PHMA نارتھ زون محمد امجد خواجہ نے کہا کہ صنعت ماحولیاتی تحفظ، کم کاربن ایمیشن اور صاف ماحول کے مقصد سے مکمل اتفاق کرتی ہے اور EPA کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے اسباب کو صرف ٹیکسٹائل سیکٹر تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ زراعت، آئل پروڈکشن، فرٹیلائزر، پیسٹی سائڈز اور دیگر شعبوں کو بھی ماحولیاتی پالیسی میں مدنظر رکھا جائے۔شکیل جان نے کہا کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث سولڈ فیول کا استعمال صنعت کی مجبوری بن چکا ہے، اس لیے بوائلرز سے متعلق ایمیشن کے مسائل کو تکنیکی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد، صنعتکاروں کی رہنمائی اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے صنعت اور EPA کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ صنعتی پیداوار اور برآمدی سرگرمیوں کا تسلسل بھی برقرار رکھا جائے۔اجلاس کے اختتام پر الطاف خان، ڈائریکٹر صداقت کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے معزز مہمان عثمان اظہر، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) فیصل آباد کو PHMA کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔








