اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اوراقوام متحدہ کے ہیبِیٹیٹ UN-Habitat کے وفدنے پاکستانی شہروں کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور پائیدار اقتصادی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے عملی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیاجس میں قومی شہری حکمت عملی پر خاص توجہ دی گئی۔یہ بات ہفتہ کو وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہی جنہوں نے کہا کہ …
ماحولیاتی وزارت اور اقوام متحدہ کے ہیبِیٹیٹ کا شہروں کو پائیدار اقتصادی مراکز بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اوراقوام متحدہ کے ہیبِیٹیٹ UN-Habitat کے وفدنے پاکستانی شہروں کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور پائیدار اقتصادی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے عملی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیاجس میں قومی شہری حکمت عملی پر خاص توجہ دی گئی۔یہ بات ہفتہ کو وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہی جنہوں نے کہا کہ یہ ملاقات وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک اور یو این ہیبِیٹیٹ کے وفد کی قیادت کرنے والی ایشیا و پیسفک کی علاقائی ڈائریکٹر Kazuko Ishigaki کے درمیان وزارت میں ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ملاقات کا مرکز موسمیاتی طور پر مضبوط شہری ترقی میں تعاون کو فروغ دینا تھا جس میں پائیدار رہائش، زمین کی بہتر منصوبہ بندی اور غیر رسمی بستیوں کی اپگریڈنگ شامل تھی۔ دونوں فریقین نے شہروں کو سیلاب، خشک سالی اور ہیٹ ویوز سے محفوظ بنانے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات کے دوران مس اِشیگاکی نے وزیر کو یو این ہیبِیٹیٹ کے 29-2026کے اسٹریٹجک پلان سے تفصیلی آگاہی دی، جو رہائش، زمین اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو ترجیح دیتا ہے اور موسمیاتی موافقت اوراستحکام کو مضبوطی سے شامل کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی مدد کرنے کے عزم کی بھی تصدیق کی تاکہ شہری سیلاب، خشک سالی کے اثرات اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا سکے۔انہوں نے پاکستان کے13ویں عالمی شہری فورم (WUF-13) میں اعلیٰ سطح کی شرکت کی اہمیت بھی اجاگر کی، جو 17 سے 22 مئی 2026 کو باکو میں منعقد ہوگی اور کہا کہ یہ فورم پاکستان کو اپنی شہری مضبوطی کی پہل کاریوں کو بین الاقوامی شرکاء اور ماہرین کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے شہری چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تیز رفتار شہر ی کاری، شہری حرارتی جزائر، ناکافی نکاسی آب و سیوریج نظام، پانی کی آلودگی، تجاوزات، رہائشی کمی اور ضابطہ کاری کے نفاذ میں کمزوری اہم مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناقص شہری ڈیزائن اور غیر مربوط منصوبہ بندی ان مسائل کی جڑ ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ایک مخصوص اور قابل عمل قومی شہری حکمت عملی کی ضرورت ہے اور حکومت نے ایڈاپٹیشن فنڈ کے تحت جاری قومی شہری حکمت عملی کے منصوبے کو فعال بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ ملاقات پاکستان کےشہروں کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط، شمولیتی اور اقتصادی طور پر فعال بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون اور علم کے تبادلے سے شہری منصوبہ بندی، ڈیجیٹل گورننس اور جدید انفراسٹرکچر کے فروغ میں مدد ملے گی۔ملاقات میں وزارت کی سیکرٹری عائشہ حمیرا موریانی، ڈائریکٹر جنرل (ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیات) آصف صاحبزادہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر (آرکیٹیکچر) فیاض میمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر (میڈیا و کمیونیکیشن) محمد سلیم بھی شریک تھے۔








