ماحولیاتی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی چیکنگ اور فٹنس سٹیکرز کے اجرا کا عمل جاری ہے

پنجاب حکومت کی ماحولیاتی پالیسی کے تحت گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کی روک تھام اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے سرگودھا میں گاڑیوں کی چیکنگ اور فٹنس سٹیکرز کے اجرا کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلع کونسل بلڈنگ کے بالمقابل چیکنگ سینٹر قائم کیا گیا ہے

سرگودھا۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):پنجاب حکومت کی ماحولیاتی پالیسی کے تحت گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کی روک تھام اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے سرگودھا میں گاڑیوں کی چیکنگ اور فٹنس سٹیکرز کے اجرا کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلع کونسل بلڈنگ کے بالمقابل چیکنگ سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں گاڑیوں کے انجن اور دھویں کے اخراج کی جانچ کے بعد مقررہ معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ اور سٹیکرز جاری کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر سی ای او آٹو یونٹ چودھری محمد عدنان نے بتایا کہ شہریوں کی سہولت کے لئے روزانہ صبح 9 بجے سے 10 بجے تک ٹوکن جاری کیے جاتے ہیں اور ٹوکن کے مطابق گاڑی مالکان کو وقت دیا جاتا ہے تاکہ انہیں طویل انتظار کی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ چیکنگ سینٹر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کام کرتا ہے روزانہ ڈیڑھ سو کے قریب گاڑیوں کو چیک کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ تمام شہریوں کو منظم طریقے سے سہولت فراہم کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی جانچ کا پورا عمل آن لائن نظام کے تحت انجام دیا جاتا ہے ۔ ٹیسٹ کے دوران گاڑی کے انجن اور سائلنسر کے ساتھ جدید آلات منسلک کرکے مقررہ تکنیکی معیار کے مطابق دھویں کے اخراج اور انجن کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیسٹ میں آر پی ایم کی مقررہ حد تقریباً 2300 سے 3000 کے درمیان ہونی چاہئیے، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔چودھری محمد عدنان نے بتایا کہ گاڑی کی رجسٹریشن اور تفصیلات کے اندراج کے بعد کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے فیس خودکار طور پر مقرر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ م 600 سے 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کی فیس 500 روپے جبکہ 1500 سی سی تک کی گاڑیوں کی فیس 800 روپے ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت جانچ کرائیں اور انہیں ماحولیاتی معیار کے مطابق رکھیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لانے کے ساتھ حکومتی پالیسی پر بھی عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔