ماحول دوست چولہے کا استعمال ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بہترین ثابت ہوگا، زرتاج گل وزیر

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ ماحول دوست اور کم توانائی خرچ کرنے والے چولہے کا زیادہ سے زیادہ استعمال ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہوٹہ میں خواتین کے لیے انرجی سیونگ سٹوز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے یونائیٹڈ …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ ماحول دوست اور کم توانائی خرچ کرنے والے چولہے کا زیادہ سے زیادہ استعمال ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہوٹہ میں خواتین کے لیے انرجی سیونگ سٹوز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمینٹ پروگرام کے تحت سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کے تعاون سے اسلام آباد سے 40 کلومیٹر کی مسافت پر چون کے علاقے میں 100 کم ایندھن استعمال کرنے والے اور ماحول دوست چولہے خواتین میں تقسیم کیے۔وزیرِ مملکت برائےموسمیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ ان چولہوں سے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین کی صحت کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔خواتین جو کہ سب سے پہلے لکڑیاں کاٹتی ہیںاور پھر ان کو جلاکر کھانا بناتی ہیں اس سے ان کی محنت بھی دو گنی لگتی ہے، قدرتی وسائل کو نقصان پہنچتا ہے اور صحت کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔زرتاج گل نے مزید کہا کہ گاؤں کے رہائشی قدرتی وسائل اور بہترین ماحول سے شہریوں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں مگر سہولیات کی کمی کے باعث وہ لکڑیاں کاٹنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ماحول، قدرتی وسائل، عوام کی بہترین صحت اور سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خواتین کے لیے انرجی سیونگ سٹوز تیار کیے گئے ہیں تا کہ انہیں مختلف بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نےبتایا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس عمل میں تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔موجودہ حکومت ایسے بہترین پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے جن کو گزشتہ 70 برس نظر انداز کیا جا تا رہا ہے۔ علاوہ ازیں، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے صنفی توازن کے لیے اپنے تمام تر پروجیکٹس میں خواتین کو برابر کا شامل کیا ہے۔ چولہوں کی تقسیم بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ تاہم اس پروجیکٹ کو مزید 12 ضلعوں میں پھیلایا جائے گا ، خواتین کے لیے مزید پراجیکٹس شروع کرنے کے حوالے سے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی ناہید شاہ درانی کا کہنا تھا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی ماحول او ر انسانی صحت کے معاملات متعلق بہت حساس ہے اور اس امر میں عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔ وزارت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ عوامی شمولیت کے بغیر ماحول کا تحفظ نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں سے گاؤں اور قصبوں کی عوام لکڑی کے لیے درختوں اور جنگلات پر انحصار کرتی ہے جس سے نہ چاہتے ہوئے بھی ماحول کو نقصان پہنچتا ہے اور صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا کمیونٹی کی شمولیت ماحول اور جنگلات کے بچاؤ اور بڑھاؤکے لیے لازم ہے۔کیونکہ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر نہ تو مقاصد حل کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ماحول کی بہتری کے ساتھ ساتھ عوام کی صحت کا بھی خیال رکھیں کیونکہ کووڈ کی ایک اہم وجہ بھی ماحول کی خرابی اور قدرتی وسائل سے لا پرواہی برتنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کے وسائل صحت و تندرستی کے لیے ضروری ہیں یہی وجہ ہے کہ گاؤں اور قصبوں میں انرجی ایفیشینٹ سٹوز دیئے جا رہے ہیں۔ مگر لازم ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کا خاص خیال رکھا جائے اور بچوں کو بھی اس متعلق آگاہی دی جائے۔ نیشنل پروجیکٹ مینجر ایاز خان نے انرجی سیونگ سٹوز کی تقسیمی تقریب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھ کر ہی ماحول اور جنگلات کو بچایا جا سکتا ہے ۔ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر دوررس نتائج ملنا ناممکن ہے۔ اس چولہے سے 40 سے 50 فیصد لکڑی کی بچت ہوگی ، دھواں جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرناک ہے ، اس میں کمی واقع ہو گی اور خواتین بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گی۔لہٰذا اس اقدام سے جنگلات پر بوجھ کم ہوگا اور موسمیاتی تبدیلی سے بچا جا سکتا ہے۔ سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کے تحت گزشتہ سال 300 چولہے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور اب مزید 100 چولہے کمیونٹی کو دیئے جا رہے ہیں ۔انرجی سیونگ سٹوز کے تحت جدید اور نت نئے طریقے اپنا کرسہولت میسر کرنے اور قیمتی جنگلات کے پائیدارانہ انتظام کو بھی یقینی بنانے میں ہم کوشاں ہیں۔

 

مزید خبریں