مالی سال 2019-20ءمیں مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے 8.1 فیصد رہا، وزارت خزانہ

اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) کوویڈ 19 کی وبا ،اس کے تدارک اورمخلتف شعبوں پراس کے مضراثرات کوکم کرنے کیلئے غیرمعمولی اخراجات کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ملک کے مالیاتی کھاتے دباﺅ کاشکاررہے تاہم سالانہ بنیادوں پرمالیاتی خسارہ میں گزشتہ مالی سال کے دوران پیوستہ مالی سال کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی طرف سے …

اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) کوویڈ 19 کی وبا ،اس کے تدارک اورمخلتف شعبوں پراس کے مضراثرات کوکم کرنے کیلئے غیرمعمولی اخراجات کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ملک کے مالیاتی کھاتے دباﺅ کاشکاررہے تاہم سالانہ بنیادوں پرمالیاتی خسارہ میں گزشتہ مالی سال کے دوران پیوستہ مالی سال کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ہے۔مالی سال 2019-20ءمیں مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے 8.1 فیصد رہا۔ مالی سال 2018-19ءمیں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے 9.1 فیصد رہاتھا۔وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی خسارہ پرمجموعی محصولات میں 28 فیصد اضافہ کے ذریعے قابوکرلیاگیا،اخراجات میں اضافہ کی شرح 16 فیصد رہی۔سہ ماہی بنیادوں پر مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے 4 فیصد رہاتھا،تاہم آخری سہ ماہی میں اس میں 4.1 فیصدکااضافہ ہوا، اس سے ظاہرہوتاہے کہ کوویڈ 19 کی وبا ،اس کے تدارک اورمخلتف شعبوں پراس کے مضراثرات کوکم کرنے کیلئے غیرمعمولی اخراجات کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ملک کے مالیاتی کھاتے دباﺅ کاشکاررہے۔ دریں اثناءگزشتہ مالی سال میں پرائمری بیلنس جی ڈی پی کے تناسب سے 1.8 فیصد ریکارڈکیاگیا، پیوستہ مالی سال میں پرائمری بیلنس جی ڈی پی کے تناسب سے 3.6 فیصد ریکارڈکیاگیاتھا، جولائی کے دوران حسابات جاریہ کے خسارہ میں اضافہ ریکارڈکیاگیا، جولائی 2020ءمیں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 0.4 ارب ڈالرکااضافہ ہوا، گزشتہ سال جولائی میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں منفی 0.6 ارب ڈالرکی کمی ہوئی تھی۔ وزارت خزانہ کے مطابق سالانہ بنیادوں پرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈاضافہ ہواہے، گزشتہ سال 20 اگست ملکی زرمبادلہ کے ذخائر15.58 ارب ڈالرتھے، 20 اگست 2020 ءکو ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکا حجم 19.69 ارب ڈالرتھا۔ وزارت خزانہ کے اعدادوشمارکے مطابق ایک سال میں ایکسچینج ریٹ میں تقریباً 10 روپے کا اضافہ ہواہے، گزشتہ سال 20 اگست کو ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت 158.50 روپے تھی، رواں سال 20 اگست کو ڈالرکی شرح مبادلہ 168.31 روپے رہی ۔اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے مہینہ میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں مجموعی طورپر4.7 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2020ءمیں ایف بی آر کے محاصل کا حجم 290.5 ارب روپے ریکارڈکیاگیا، گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر کے مجموعی محاصل کا حجم 277.3 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔ گزشتہ مالی سال میں نان ٹیکس ریونیومیں مجموعی طورپر256.8 فیصد کانمایاں اضافہ ہواہے، مالی سال 2020ءمیں نان ٹیکس ریونیوکا حجم 1524.4 ارب روپے رہا، پیوستہ مالی سال میں نان ٹیکس ریونیوکا مجموعی حجم 427.3 ارب روپے رہا۔اسی طرح شرح سود میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں کمی گئی ، 17 جولائی 2019ءکو پالیسی ریٹ 13.25 فیصد تھا، 25 جون 2020ءسے پالیسی ریٹ 7 فیصد ہے۔یکم جولائی 2019ءسے لیکر17 اگست 2019ءتک حکومت نے سٹیٹ بینک سے 529.7 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیاتھا، تاہم حکومت نے اس حوالہ سے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اورسٹیٹ بینک سے قرضہ حاصل نہ کرنے کافیصلہ کیا، رواں سال یکم جولائی سے لیکر14 اگست تک حکومت نے سٹیٹ بینک کو460.1 ارب روپے کاقرضہ واپس کیا۔سالانہ بنیادوں پرپاکستان سٹاک ایکسچینج میں مجموعی طورپر14.27 فیصد کا اضافہ ریکارڈکیاگیاہے، یکم جولائی 2019 کو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈکس 34889 پوائنٹ پرتھا، 20 اگست 2020ءکو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈکس39869 پوائنٹس ریکارڈکیاگیا۔اسی طرح ملک میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔گزشتہ جولائی میں 1531 کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی تھی، رواں سال جولائی میں کل 1933 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔