معروف ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کمپنی وولفیز نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مؤثر انتظام کے لیے حکومتوں اور ریاستی اداروں پر جدید ڈیجیٹل حکمت عملی اور روایتی نظام پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
بڑھتی آبادی سے نمٹنے کے لیے سمارٹ سسٹمز ناگزیر ہیں، وولفیز

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):معروف ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کمپنی ’وولفیز‘ نے حکومتوں اور ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ آبادی میں اضافے سے نمٹنے کے لیے روایتی انتظامی طریقوں پر نظرثانی کریں۔
دنیا کا اصل چیلنج آبادی کی بڑھتی ہوئی تعداد نہیں، بلکہ عوامی نظام کی وہ محدود استعداد ہے جو جدید دور کی تیز رفتار مانگ کا ساتھ دینے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔عالمی یوم آبادی کے موقع پر اسلام آباد میں قائم معروف ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کمپنی ’وولفیز‘ (Wolfiz) نے واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی صحت، ٹرانسپورٹ، ہائوسنگ، تعلیم، عدالتی نظام، ہنگامی ردعمل اور پبلک ایڈمنسٹریشن جیسے بنیادی شعبوں پر دبائو بڑھا رہی ہے۔ اب مرکزی سوال یہ نہیں رہا کہ آبادی بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان آبادیوں کی معاونت کے لیے بنائے گئے ریاستی ڈھانچے معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ آبادی کا اضافہ بذات خود کوئی بحران پیدا نہیں کرتا، بلکہ یہ دراصل ان سسٹمز اور فرسودہ گورننس ماڈلز کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے جو آج کے دور کے پھیلائو کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔دنیا کے کامیاب ممالک (جیسے اسٹونیا، سنگاپور، برطانیہ، یو اے ای اور سعودی عرب) کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنٹ ڈیجیٹل سسٹمز، آٹومیشن، اور پیشگی تجزیہ کاری کے ذریعے حکومتیں اب بیوروکریسی کا حجم بڑھائے بغیر لاکھوں شہریوں کو بہترین خدمات فراہم کر رہی ہیں۔پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وولفیز نے پبلک سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن کے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے سکیل ایبل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے پھیلائو میں تیزی لانا اور مختلف اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔







