مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ، ریونیو 46.4 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، چیئرمین ایف بی آرراشد لنگڑیال
مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ، ریونیو 46.4 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو معیشت کے دستاویزی شکل اختیار کرنے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کا نتیجہ ہے۔قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے اجراء کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے راشد لنگڑیال نے بتایا کہ ایف بی آر نے محصولات کے تخمینے میں معاشی نمو اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ کو مدنظر رکھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر شرح تبادلہ مزید مستحکم رہتی ہے تو درآمدات پر وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کی شرح نمو نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔چیئرمین ایف بی آر کے مطابق جون 2024ء تک ایف بی آر کی وصولیاں 32.6 ارب ڈالر تھیں جو جون 2025ء میں بڑھ کر 41.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک محصولات کا حجم 46.4 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے مختلف اداروں سے معلومات حاصل کی گئیں جن میں نیب کی جانب سے پرانی جائیدادوں سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات بھی شامل ہیں جس سے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی اور محصولات میں اضافے میں مدد ملی۔راشد لنگڑیال نے ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں سفارش اور دبائو کے کلچر کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور حکومتی قیادت کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے محصولات میں بہتری اور ٹیکس نظام پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف بی آر ٹیکس بیس میں مزید توسیع، ڈیجیٹلائزیشن اور موثر نفاذ کے ذریعے قومی محصولات میں اضافے کی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا تاکہ ملک کی مالیاتی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکے۔







