مالی سال2020-21کا29ارب42کروڑ43لاکھ57ہزار120روپے کا ضمنی بجٹ بھی پیش

پشاور۔19جون (اے پی پی)خیبرپختونخوااسمبلی میں مالی سال20120-21کا29ارب42کروڑ43لاکھ57ہزار120روپے کا ضمنی بجٹ بھی پیش کردیاگیا ۔جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا نے ایوان کوبتایاکہ مالی سال2019-20کابجٹ پیش کرتے وقت ریونیوراخراجات جاریہ کے میزانیہ کاتخمینہ536ارب روپے لگایاگیاتھا جس میں79ارب روپے برائے ایم این ایز ضم شدہ قبائلی اضلاع کےلئے تھے نظرثانی شدہ تخمینہ میں یہ رقم542.750ارب روپے ہوگئی ہے اسی طرح مجموعی نظرثانی شدہ تخمینہ …

پشاور۔19جون (اے پی پی)خیبرپختونخوااسمبلی میں مالی سال20120-21کا29ارب42کروڑ43لاکھ57ہزار120روپے کا ضمنی بجٹ بھی پیش کردیاگیا ۔جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا نے ایوان کوبتایاکہ مالی سال2019-20کابجٹ پیش کرتے وقت ریونیوراخراجات جاریہ کے میزانیہ کاتخمینہ536ارب روپے لگایاگیاتھا جس میں79ارب روپے برائے ایم این ایز ضم شدہ قبائلی اضلاع کےلئے تھے نظرثانی شدہ تخمینہ میں یہ رقم542.750ارب روپے ہوگئی ہے اسی طرح مجموعی نظرثانی شدہ تخمینہ جاریہ میزانیہ کے تخمینے سے6.750ارب روپے زیادہ ہے تاہم بعض گرانٹس کے مختلف Objectsمیں مختص شدہ تخمینہ سے زائد خرچ کرناپڑایاگرانٹس کے اندر نئےObjectsکےلئے رقوم مختص کی گئیں جسکی وجہ سے اخراجات جاریہ کے ضمنی بجٹ کاحجم29ارب42کروڑ43لاکھ57ہزار120روپے لگاہے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے جولائی2019سے اعلان کردہ ایڈیشنل ریلیف الاﺅنس کی ادائیگی کےلئے تمام صوبائی محکمہ جات کومجموعی طو رپرچارارب 71کروڑ92لاکھ7ہزار روپے کی اضافی رقم جاری کی گئی محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آئی ٹی بورڈ کوتنخواہ اور الاﺅنسزاوردیگراخراجات کےلئے تین کروڑ61لاکھ روپے ،محکمہ ریونیواینڈسٹیٹ کو17کروڑ16لاکھ59 ہزارروپے،ایکسائزاینڈٹیکسیشن کوچارکروڑ29لاکھ97ہزارروپے،محکمہ جیلخانہ جات کو25کروڑ40لاکھ21ہزارروپے، محکمہ پولیس کو2ارب34 کروڑ31لاکھ22ہزارروپے،ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کوایک ارب45کروڑ96لاکھ34ہزارروپے،محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ دوارب26کروڑ51 لاکھ96ہزار، بلدیات85کروڑ95لاکھ66ہزار، زراعت63کروڑ12لاکھ پانچ ہزار،امورحیوانات ایک کروڑ45لاکھ78ہزار،انجمن ہائے امدادباہمی24لاکھ61ہزارروپے،جنگلات سات کروڑ81لاکھ،آبپاشی37کروڑ82لاکھ67ہزار،محکمہ سٹینشری اینڈپرنٹنگ چارکروڑپچاس لاکھ56ہزار،پنشن چارارب9کروڑ53لاکھ14ہزار، کھیل ،ثقافت ،سیاحت وعجائب گھر98کروڑپچاس اکھ32ہزار،ڈسٹرکٹ سیلردس ارب49کروڑ84لاکھ98ہزار،ٹرانسپورٹ اینڈماس ٹرانزٹ46کروڑ35لاکھ37ہزار ودیگرچارہزار120 کی اضافی رقم جاری کی گئی جسکی منظوری ایوان سے لیناضروری ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ مالی سال2019-20کاکل صوبائی سالانہ ترقیاتی بجٹ108ارب روپے تھا جونظرثانی شدہ تخمینہ جات میں99ارب روپے ہوگیاہے اسی طرح ترقیاتی بجٹ میں نوارب روپے کی کمی ہوئی تاہم26ارب 55کروڑ34لاکھ99ہزار 111روپے کاضمنی ترقیاتی بجٹ پیش کیاجاتاہے کیونکہ وفاقی حکومت کی طرف سے پی ایس ڈی پی سکیموں کےلئے ہمارے بجٹ سے ماسوائے17ارب60کروڑ26لاکھ71ہزار 191روپے کے فنڈزفراہم کئے گئے اورکچھ سکیموں کوقبل ازوقت مکمل کرنے یا ان پرکام تیز کرنے کےلئے صوبائی حکومت نے اضافی رقوم فراہم کیں جس کی تفصیل کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے پی ایس ڈی پی سکیموں کےلئے موصول شدہ رقم17ارب 60کروڑ26لاکھ71ہزار191روپے،صوبائی سکیموں کومکمل یا ان پرکام تیز کرنے کےلئے اضافی رقم آٹھ ارب61کروڑ89لاکھ28ہزار40روپے ،ترقیاتی اخراجات ایم این ایز 33کروڑ19لاکھ روپے ہے جس کا کل میزان26ارب55کروڑ34لاکھ99ہزار111روپے بنتاہے ۔

مزید خبریں