اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یواین ایف پی اے ) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نوجوان مناسب معاشی حالات میسر آنے کی صورت میں شادی کرنے اور بچوں کی پرورش کے خواہش مند ہیں۔
مالی مشکلات نوجوانوں کو خاندان بنانے سے روک رہی ہیں، اقوام متحدہ رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔9جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یواین ایف پی اے ) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نوجوان مناسب معاشی حالات میسر آنے کی صورت میں شادی کرنے اور بچوں کی پرورش کے خواہش مند ہیں۔شنہوا کے مطابق رپورٹ کے مطابق 2025-2026 کے”یموگرافک فیوچرز سروے” میں شامل دو تہائی سے زائد نوجوانوں نے شادی پر مبنی خاندانی زندگی کو اپنی مثالی زندگی قرار دیا۔ یہ سروے 73 ممالک اور خطوں کے 18 سے 39 سال کی عمر کے ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد پر کیا گیا۔رپورٹ "زندگیاں، انتخاب اور مستقبل۔نوجوان کیا چاہتے ہیں اور ان کے تعلقات اور والدین بننے کے فیصلوں پر کیا عوامل اثرانداز ہوتے ہیں” کے مطابق دنیا کے بیشتر علاقوں میں دو بچوں پر مشتمل خاندان کو مثالی تصور کیا جاتا ہے، جبکہ مغربی و وسطی افریقہ اور مشرقی و جنوبی افریقہ میں نسبتاً بڑے خاندان کو ترجیح دی جاتی ہے۔
سروے میں شامل 88 فیصد افراد نے مالی استحکام کو والدین بننے کے لیے سب سے اہم شرط قرار دیا، جبکہ 87 فیصد نے مستقل روزگار اور 85 فیصد نے ذہنی و جذباتی طور پر تیار ہونے کو ضروری قرار دیا۔ خواتین نے ان تمام عوامل کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی۔رپورٹ کے مطابق 80 فیصد شرکاء نے بچوں سے ملنے والی خوشی اور مسرت کو اولاد پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا، جبکہ حکومتی مراعات یا مستقبل کی افرادی قوت میں اضافے جیسے عوامل کو نسبتاً کم اہمیت حاصل ہوئی۔بچوں کی پیدائش میں سب سے بڑی رکاوٹ معاشی مشکلات اور رہائش کے مسائل قرار دیے گئے، جنہیں 72 فیصد شرکاء نے اہم قرار دیا۔
اس کے بعد موزوں شریکِ حیات کی عدم دستیابی اور صحت و تولید سے متعلق مسائل نمایاں رکاوٹوں میں شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر **ڈیانے کیٹا** نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ نوجوان اب بھی شادی اور خاندان بنانے کے خواہش مند ہیں، تاہم انہیں مناسب معاشی اور سماجی سہولیات میسر نہیں۔ان کے مطابق نوجوان ایسی بنیادی سہولیات چاہتے ہیں جن میں باوقار روزگار، سستی رہائش، معیاری صحت کی سہولیات، تولیدی صحت کی خدمات، بچوں کی دیکھ بھال، والدین کے لیے رخصت اور گھر و کام کی جگہ پر صنفی مساوات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ نوجوانوں کی بے دلی نہیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے، اور اگر اس حقیقت کو درست انداز میں نہ سمجھا گیا تو اس کے حل کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی تشکیل نہیں دی جا سکیں گی۔








