وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی وسائل کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا ،اس ضمن میں چینی کرنسی یوآن میں مزید بانڈز کے اجرا اور جاپانی مارکیٹ سے سمورائی بانڈز کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے
مالی وسائل کے حصول کے ذرائع متنوع بنانے کا سلسلہ جاری ، پانڈا اور سمورائی بانڈز کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے پرغور ہو رہا ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی وسائل کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا ،اس ضمن میں چینی کرنسی یوآن میں مزید بانڈز کے اجرا اور جاپانی مارکیٹ سے سمورائی بانڈز کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بات بنکاک میں عالمی بینک اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جاپانی جریدے نکی ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس پیر ہی کو شروع ہوئے ۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ حالیہ پانڈا بانڈ کا اجرا محض ایک مرتبہ کا اقدام نہیں بلکہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں دوبارہ بھی آئے گا اور مستقبل میں مسلسل بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ چین دنیا کی دوسری بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹ ہے جس سے استفادہ کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا تاہم فنڈز کے حصول کے ذرائع کو مزید متنوع بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے جن میں جاپانی کرنسی ین میں سمورائی بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ سمورائی بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا ہے اور اس امکان پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے تاہم اس ضمن میں مزید تیاری اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ قومی ٹیرف پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یہ پالیسی صرف آٹو موبائل کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ تمام صنعتوں سے متعلق ہے۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں حکومت نے صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا، تاہم اس تحفظ کے خاتمے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی یہ حکمت عملی پاکستان کے لیے موثر ثابت نہیں ہوئی اب حکومت کا مقصد مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنانا ہے ، قومی ٹیرف پالیسی سے برآمدات میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے بالخصوص خام مال اور درمیانی درجے کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔وزیرخزانہ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے ممالک نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں درآمدی محصولات کم کیے جس سے انہیں مختلف شعبوں میں فوائد حاصل ہوئے، پاکستان کے لیے بھی یہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرز پر معاشی ترقی اور صنعتی مسابقت کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان تمام چینی آٹو موبائل کمپنیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہے اوراس سے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت میں بھی مدد مل رہی ہے ،موجودہ پروگرام میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا ایجنڈا شامل ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو پائیدار بنیاد پر استوار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی معاونت سے نکل سکے گا جب دنیا کو یقین ہو جائے گا کہ اب پاکستان کوفوری مالی مدد کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہی







