مانسہرہ میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث وادی کاغان اور وادی سرن میں آنے والے اچانک سیلابی ریلوں سے پل،مکانات اور دکانیں متاثر ہوئیں جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ چند روز مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
مانسہرہ،مون سون بارشوں سے سیلابی صورتحال،کاغان اور سرن میں پل،مکانات اور دکانیں متاثر،ریسکیو 1122 ہائی الرٹ

مزید خبریں
مانسہرہ۔ 20 جولائی (اے پی پی):مانسہرہ میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث وادی کاغان اور وادی سرن میں آنے والے اچانک سیلابی ریلوں سے پل،مکانات اور دکانیں متاثر ہوئیں جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ چند روز مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 19 جولائی کو دوپہر تقریبا دو بجے وادی کاغان کے درمیانہ گاؤں میں مقامی نالہ "کٹھا” میں شدید بارش کے باعث اچانک سیلابی ریلہ آ گیا جس سے چار عارضی لکڑی کے پل بہہ گئے جبکہ کنکریٹ کے پل (کازوے) کے پیچھے پانی جمع ہونے سے نشیبی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو 1122،کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)،محکمہ مال اور دیگر متعلقہ اداروں کو متحرک کیا اور ارلی وارننگ سسٹم فعال کیا گیا جبکہ مقامی مساجد کے ذریعے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔انتظامیہ کے مطابق پانی کے شدید دباؤ کے باعث کنکریٹ کا کازوہ ٹوٹ گیا جس سے پانی کا بہاؤ بحال ہو گیا اور بڑے نقصان کا خدشہ ٹل گیا تاہم اس سے قبل سیلابی پانی متعدد گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے انہیں جزوی نقصان پہنچا،واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ابتدائی تخمینے کے مطابق دو کنکریٹ پل یا کازوے متاثر یا تباہ ہوئے،چار لکڑی کے پل بہہ گئے جبکہ متعدد مکانات اور دکانیں جزوی طور پر متاثر ہوئیں،گھروں،کاروباری مراکز اور دیگر انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی سروے جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو،انخلا اور رابطہ کاری میں موثر کردار ادا کرنے پر ویلیج کونسل سیکرٹری جواد احمد کی خدمات کو بھی سراہا۔دوسری جانب 19 جولائی کی صبح وادی سرن کے علاقے مولی کٹھا میں کیچمنٹ ایریا میں ہونے والی بارش کے باعث اچانک سیلاب آ گیا جس سے دو سے تین رہائشی مکانات اور ایک ہوٹل کو جزوی نقصان پہنچا۔ضلعی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا۔اس واقعے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ نقصانات کے جامع تخمینے کا عمل جاری ہے،ادھر محکمہ موسمیات نے 21 سے 26 جولائی کے دوران مانسہرہ سمیت ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں،گرج چمک اور وقفے وقفے سے مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
اس وقت وادی کاغان، وادی سرن اور بالائی وادی کونش میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث دریائے کنہار اور برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دریں اثنا، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا،ریجنل ڈائریکٹر نارتھ اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مانسہرہ ابرار علی کی ہدایات پر ریسکیو 1122 کی تمام ٹیمیں،واٹر ریسکیو (ڈائیور) یونٹس اور عارضی واٹر ریسکیو پوائنٹس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ریسکیو اہلکار دریاؤں،ندی نالوں،حساس مقامات اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات والے علاقوں میں مسلسل گشت،نگرانی اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔بالاکوٹ میں بھی مسلسل بارش کے دوران ریسکیو ٹیمیں رات بھر مختلف مقامات پر موجود رہیں،پھنسنے والی گاڑیوں کی مدد کی،متاثرہ سڑکیں کلیئر کر کے ٹریفک بحال کی اور پانی کی سطح معمول پر آنے تک صورتحال کی نگرانی جاری رکھی۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 نے عوام اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔دریاؤں،ندی نالوں اور سیلابی ریلوں سے دور رہیں،لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات والے علاقوں میں احتیاط برتیں،بچوں کو پانی کے قریب نہ جانے دیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر رابطہ کریں۔








