اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر تعلیم عائشہ حامد نے سماجی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں ہم بطور قوم اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کوکیا پڑھانا ہے، ملک میں یکساں نصاب اور نظام تعلیم کیلئے وفاقی اور صوبائی …
ماہر تعلیم عائشہ حامد کا نیکٹا کے زیراہتمام پینل مذاکرے سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر تعلیم عائشہ حامد نے سماجی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں ہم بطور قوم اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کوکیا پڑھانا ہے، ملک میں یکساں نصاب اور نظام تعلیم کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو یہاں انسداد دہشت گردی کی قومی مقتدرہ (نیکٹا) کے زیراہتمام ”اسلام آباد انٹرنیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم فورم“ کے پہلے روز منعقدہ پینل مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں مختلف نصاب رائج ہیں، نصاب کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ اپنے بچوں کو کیا سکھانا اور انہیں کیا بنانا چاہتے ہیں، اس وقت ہمارا جو نصاب رائج ہے ان میں ہمارے بچے سوچ و بچار اور تجزیہ کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔








