ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش، سعودی عرب، اسلامی اور عرب وزرائے خارجہ کی مذمت

ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب سمیت متعدد عرب و اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ رمضان المبارک کے تقدس کا بھی خیال نہ کرتے ہوئے …

ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب سمیت متعدد عرب و اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ رمضان المبارک کے تقدس کا بھی خیال نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مسجد الاقصی جانے سے روکا جارہا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بیت المقدس اور قدیم شہر کی عبادت گاہوں تک رسائی تک سکیورٹی پابندیاں امتیازی ہیں، یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی بین الاقوامی قوانین، موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت اورعبادتگاہوں تک رسائی کی مکمل آزادی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔وزرائے خارجہ نے ان غیرقانونی و بلاجواز اقدامات اور مسجد الاقصی میں اسرائیل کے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس، اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خود مختاری نہیں ہے۔ مسجد الاقصی اور ارد گرد کا پورا رقبہ جو 144 دونم ہے صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، بیت المقدس اورمسجد الاقصی کے امور اور انتظامات کی ذمہ دار اردن کی وزارت اوقاف ہے، جس کے پاس کمپاونڈ کی نگرانی اور رسائی کو منظم کرنے کا قانونی اختیار ہے۔بیان میں وزار نے زور دیا کہ اسرائیل فوری طور پر بندش ختم کرے اور نمازیوں کے لیے مسجد اقصی تک رسائی میں رکاوٹ کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔مشترکہ بیان میں عالمی برادری پراسرائیل کی جانب سے مسلمانوں اورعیسائیوں کے مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔یاد رہے کہ اسرائیل نے بدھ کو مسلسل 12 ویں دن بھی نمازیوں کو مسجد اقصی میں داخلے سے روک دیا ہے۔