ابوظہبی۔4ستمبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے 1971 سے لے کر 2024 کے وسط تک دیگر ممالک کو 360 ارب درہم (98 ارب ڈالر) سے زیادہ امداد فراہم کی ہے جس کا مقصد غربت میں کمی، آفات کے اثرات کو کم کرنا، اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا، اور امن و سلامتی کو مستحکم کرنا ہے ۔ بین الاقوامی یوم خیرات کے حوالہ سے متحدہ عرب امارات کی نیوز …
متحدہ عرب امارات کی طرف سے دی جانے والی غیر ملکی امداد کا حجم 360 ارب درہم تک پہنچ گیا
ابوظہبی۔4ستمبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے 1971 سے لے کر 2024 کے وسط تک دیگر ممالک کو 360 ارب درہم (98 ارب ڈالر) سے زیادہ امداد فراہم کی ہے جس کا مقصد غربت میں کمی، آفات کے اثرات کو کم کرنا، اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا، اور امن و سلامتی کو مستحکم کرنا ہے ۔ بین الاقوامی یوم خیرات کے حوالہ سے متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سخاوت، ہمدردی اور رضاکارانہ خدمات کے اپنے بنیادی اقدار کی روشنی میں دنیا بھر کے ممالک اور کمیونٹیز کو بھرپور امداد فراہم کی ہے ۔
متحدہ عرب امارات کی فلاحی کاموں سرگرمیوں سے گہری وابستگی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں مزید آگے بڑھی ہے دنیا بھر میں آفات، تنازعات اور بحرانوں سے متاثرہ افراد کی حمایت کے لئے یواے ای کی سرگرمیاں جاری ہیں۔متحدہ عرب امارات کی صدارتی عدالت میں بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور فلاحی کونسل، جس کی صدارت صدارتی عدالت برائے ترقی اور فالن ہیروز کے امور کے ڈپٹی چیئرمین شیخ طیب بن محمد بن زاید النہیان کرتے ہیں، ملک کے بین الاقوامی انسانی اور فلاحی امور کی نگرانی کرتی ہے۔متحدہ عرب امارات کے "پرنسپلز آف 50” کا 9 واں اصول واضح کرتا ہے کہ ملک کی غیر ملکی انسانی امداد اس کے وژن اور کم خوش قسمت لوگوں کے لئے اخلاقی فرض کا ایک لازمی حصہ ہے۔
غیر ملکی انسانی امداد مذہب، نسل، رنگ یا ثقافت سے مشروط نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کے ساتھ سیاسی اختلاف اس ملک کو آفات، ہنگامی حالات اور بحرانوں میں امداد فراہم کرنے سے روکنے کا جواز نہیں بن سکتا۔متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں متعدد اہم انسانی مہمات کا آغاز کیا ہے، جن میں 2015 میں "یمن وِی کیئر” مہم، 2017 میں "فار یوئر سیک، صومالیہ”، 2019 میں روہنگیا خواتین اور بچوں کی حمایت کی مہم، اور 2022 میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کے لیے "وارم ونٹر” اقدام شامل ہیں۔
حال ہی میں، یو اے ای نے 2023 میں شام اور ترکی میں زلزلہ متاثرین کے لیے “برجِ آف گیونگ” اقدام اور جاری جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کی امداد کے لیے "تراہم فار غزہ” مہم کا اہتمام کیا۔یہ تمام اقدامات متحدہ عرب امارات کی ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر اس کی حیثیت کو مستحکم کرتے ہیں، جو دنیا بھر میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔








