مجموعی خوردہ ٹرانزیکشنوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا حصہ 88 فیصد ریکارڈ،سٹیٹ بینک نے مالی سال 25ء کےنظامِ ادائیگی کا سالانہ جائزہ جاری کر دیا

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):مجموعی خوردہ ٹرانزیکشنوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا حصہ 88 فیصد رہا جبکہ یہ مالی سال 23ء میں 78 فیصد اور مالی سال 24ء میں 85 فیصد بڑھی تھیں۔ موبائل بینکاری ایپس 6.2 ارب ٹرانزیکشنوں کے ساتھ سرفہرست رہیں اور ان میں 52 فیصد نمو ہوئی جبکہ انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز کے ذریعے 297 ملین ٹرانزیکشنوں کو پروسیس کیا گیا جو …

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):مجموعی خوردہ ٹرانزیکشنوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا حصہ 88 فیصد رہا جبکہ یہ مالی سال 23ء میں 78 فیصد اور مالی سال 24ء میں 85 فیصد بڑھی تھیں۔ موبائل بینکاری ایپس 6.2 ارب ٹرانزیکشنوں کے ساتھ سرفہرست رہیں اور ان میں 52 فیصد نمو ہوئی جبکہ انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز کے ذریعے 297 ملین ٹرانزیکشنوں کو پروسیس کیا گیا جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 33 فیصد زائد ہیں۔یہ بات بینک دولت پاکستان کی جانب سے نظامِ ادائیگی سے متعلق سالانہ جائزہ میں کہی گئی ۔

سالانہ جائزہ میں ادائیگی کے موجودہ ایکوسسٹم کے جامع تجزیے کے ساتھ ساتھ ادائیگی کے منظرناموں کی صورت گری کرنے والے ابھرتے ہوئے اہم رجحانات اور مالی سال 2024-25ء(مالی سال 25ء) میں اس شعبے میں ہونے والی قابل ذکر پیشرفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سالانہ جائزے میں گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں ادائیگیوں کے منظرنامے میں ضوابطی اقدامات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں توسیع اور صارفین کی جانب سے موبائل اور انٹرنیٹ بینکاری کے پلیٹ فارموں کو اختیار کرنے میں ٹھوس پیشرفت کے باعث تیزی سے ہونے والی توسیع کو بیان کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خوردہ ادائیگیاں مضبوط نمو کے ساتھ 612 ٹریلین روپے مالیت کی 9.1 ارب ٹرانزیکشنوں تک پہنچ گئیں اور ان میں سال بہ سال بنیادوں پر تعداد کے لحاظ سے 38 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 12 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈیجیٹل ذرائع نے مستحکم رفتار کو برقرار رکھا اور پاکستانیوں کی جانب سے روزمرہ ادائیگیوں کے لئے موبائل ایپس، انٹرنیٹ بینکاری اور ای منی والٹس کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی خوردہ ٹرانزیکشنوں میں ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا حصہ 88 فیصد رہا جبکہ یہ مالی سال 23ء میں 78 فیصد اور مالی سال 24ء میں 85 فیصد بڑھی تھیں۔ موبائل بینکاری ایپس 6.2 ارب ٹرانزیکشنوں کے ساتھ سرفہرست رہیں اور ان میں 52 فیصد نمو ہوئی جبکہ انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز کے ذریعے 297 ملین ٹرانزیکشنوں کو پروسیس کیا گیا جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 33 فیصد زائد ہیں۔

موبائل بینکاری ایپس کی مجموعی تعداد میں محدود حصہ ہونے کے باوجود ای منی والٹ ایپس نے تیزترین نمو حاصل کی اور سال کے دوران ان کی ٹرانزیکشنوں کی تعداد اور مالیت دونوں میں دگنا اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز پر صارفین کے اس بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ اسے شمولیت اور قبولیت کا ممکنہ اہم محرک سمجھتے ہیں۔ اس تبدیلی کو بنیادی انفراسٹرکچر میں نمایاں مضبوطی سے تقویت ملی جس نے پائیدار ترقی اور آپریشنل کارکردگی کے لئے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔

پاکستان کے فوری ادائیگی کے پلیٹ فارم’راست‘کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت، دونوں کے لحاظ سے د گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یوں یہ ملک کے ڈیجیٹل مالی ایکوسسٹم کا ایک ستون ثابت ہوا۔’راست‘ پرسن ٹو مرچنٹ (پی 2 ایم) خدمات کے لئے صنعت کی پیشکش نے ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ، مہنگے انفراسٹرکچر پر انحصار میں کمی، تیز تر ادائیگیوں کو ممکن بنانے اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ کو پروان چڑھانے کی جانب ایک انقلابی سفر کا آغاز کیا جس سے باضابطہ مالی خدمات تک بہتر رسائی کی راہ ہموار ہوئی۔ پوائنٹ آف سیل نیٹ ورک میں نمایاں توسیع ہوئی، جو بڑھ کر 1,59,284 دکانوں اور اسٹورز پر 1,95,849 ٹرمینلز تک پہنچ گیا جس سے بذریعہ کارڈ یومیہ ادائیگیوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہوگئی، جو گزشتہ مالی سال کے 0.7 ملین کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

اسی دوران ای۔کامرس ادائیگیوں کا رجحان مستقل طور پر اکاؤنٹ اور والٹ پر مبنی ذرائع کی جانب مائل رہا جو مجموعی آن لائن ٹرانزیکشنز کا 93 فیصد ہیں۔ اے ٹی ایم نیٹ ورک میں بھی مشینوں کی کل تعداد 7 فیصد اضافے کے ساتھ 20,341 ہو گئی اور ہر مشین یومیہ اوسطاً 140 ٹرانزیکشنز انجام دے رہی ہے۔ دورانِ مدت آر ٹی جی ایس سسٹم کو’پرزم پلس‘ میں اپ گریڈ کیا گیا جس کا مقصد خوردہ اور بڑی مالیت کی ادائیگیوں کی کارکردگی، شفافیت اور تحفظ کو بہتر بنانا تھا۔ اس نظام کی بدولت ٹرانزیکشنز کی مالیت میں دو ہندسی شرح سے اضافہ ہوا جو بیشتر حکومتی تمسکات کے تصفیے اور بینکوں کے مابین منتقلیوں کی بدولت ممکن ہوا۔ سٹیٹ بینک نے ادائیگی کے محفوظ، مؤثر اور ہمہ گیر نظام کے فروغ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ ملک کا مالی انفراسٹرکچر عوام کا اعتماد اور نظام کی لچک برقرار رکھتے ہوئے عالمی جدت طرازی کے ساتھ ہم آہنگ رہ کر ارتقا پاتا رہے۔