محتسب ادارے شہریوں کو شکایات کے ازالے کے لیے قابل رسائی راستہ فراہم کرتے ہیں، نوید کامران بلوچ

وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ شہریوں کو سرکاری انتظامیہ سے معاملات کے دوران اپنی شکایت کے ازالے کے لیے قابل رسائی راستہ حاصل ہونا چاہیے،محتسب ایسا ذریعہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے عام شہری روایتی قانونی کارروائی سے وابستہ پیچیدگی اور رسمی طریقہ کار کے بغیر اپنی شکایت پیش کرسکتا ہے۔

لاہور۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ شہریوں کو سرکاری انتظامیہ سے معاملات کے دوران اپنی شکایت کے ازالے کے لیے قابل رسائی راستہ حاصل ہونا چاہیے،محتسب ایسا ذریعہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے عام شہری روایتی قانونی کارروائی سے وابستہ پیچیدگی اور رسمی طریقہ کار کے بغیر اپنی شکایت پیش کرسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں دفتر محتسب پنجاب کے قیام کی30ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ30ویں سالگرہ کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا موضوع احتساب، حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے استحکام میں محتسب اداروں کا کردار تھا۔

وفاقی محتسب نے محتسب پنجاب عائشہ حامد کو30 سال کی خدمات اور لاہور میں اس اہم تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی اور بین الاقوامی مندوبین کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ مندوبین کی موجودگی اچھی حکمرانی،احتساب اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عائشہ حامد نے بین الاقوامی محتسب فورمز میں فعال کردار ادا کیا اور پاکستان کے تجربے کو عالمی محتسب برادری تک پہنچایا۔انٹرنیشنل اومبڈز مین انسٹی ٹیوٹ میں سیکنڈ وائس پریذیڈنٹ،بعد ازاں فرسٹ وائس پریذیڈنٹ اور ایشیائی ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر ان کی ذمہ داریاں بین الاقوامی سطح پر ان کی شرکت اور محتسب کے نظام میں پاکستان کی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔کامران بلوچ نے کہا کہ ایک شکایت انتظامی نظام میں کمزوری کی نشاندہی کرسکتی ہے،انفرادی شکایت کا ازالہ اور اچھی حکمرانی ایک دوسرے سے قریبی طور پر منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے محتسب سے عوامی انتظامیہ کی بہتری میں وسیع تر کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

موثر اور بروقت شکایات کا ازالہ جاری رکھتے ہوئے بدانتظامی کے رجحانات کی نشاندہی اور اداروں کو اپنے طریقہ کار میں بہتری لانے کی ترغیب دینی چاہیے،اس لحاظ سے ہر شکایت سیکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔وفاقی محتسب نے کہا کہ احتساب موثر حکمرانی کا ایک لازمی ستون ہے اور جوابدہ انتظامیہ شہریوں کیلئے بروقت ردعمل دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محتسب انتظامی اقدامات کی آزادانہ جانچ پڑتال کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا ہے جبکہ انتظامیہ کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرتا ہے۔محتسب کا کردار بدانتظامی کی نشاندہی اور اصلاحی اقدامات کی سفارش کے ذریعے قانونی،منصفانہ اور بروقت ردعمل دینے والی انتظامیہ کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ محتسب اداروں کو عوامی انتظامیہ کے مخالفین کے طور پر نہیں بلکہ اس کے معیار اور عوامی ردعمل کو بہتر بنانے میں شراکت دار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

جہاں ادارے شکایات سے سیکھتے اور اصلاحی اقدامات متعارف کراتے ہیں،وہاں اس کا فائدہ انفرادی شکایت کنندہ سے آگے بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری آج توقع کرتے ہیں کہ سرکاری ادارے تیزی سے ردعمل دیں،واضح انداز میں رابطہ کریں اور قابل رسائی خدمات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شکایتی نظام،الیکٹرانک ریکارڈ،ڈیٹا اینالیٹکس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تاخیر کم کرسکتی ہیں،نگرانی بہتر بناسکتی ہیں، رسائی میں اضافہ کرسکتی ہیں اور شکایات میں موجود رجحانات کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔کامران بلوچ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی شہری مرکزیت پر مبنی ہونی چاہیے اور انصاف تک رسائی کو آسان بنانا چاہیے،دور دراز علاقوں میں مقیم یا ڈیجیٹل آلات سے کم واقف افراد کو خارج نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ رازداری،نجی معلومات کے تحفظ،سائبر سکیورٹی اور معلومات کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں،جدت کے ساتھ حفاظتی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ محتسب کے کردار میں ایک اور اہم ارتقا انسدادی اقدامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ بار بار سامنے آنے والی شکایات کا تجزیہ نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتا ہے اور اداروں کو اصلاحی اقدامات متعارف کرانے میں مدد دے سکتا ہے۔کانفرنس سے محتسب پنجاب عائشہ حامد نے بھی خطاب کیا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں ”اے پی پی”سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ حامد نے30 سال مکمل ہونے پر تقریبات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تقریبات5 اکتوبر سے شروع ہوئی ہیں اور10 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ تقریبات میں19 ممالک کے20 وفود آئے ہیں،جن میں روس کے دو وفود شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وفود میں ایشیا، یورپ، مشرق وسطی اور افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔تقریب کے اختتام پر بیرونی وفود کو شیلڈز بھی دی گئیں۔