اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے ایک افسر کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمانہ انکوائری کے دوران افسر کو گواہوں کی جرح کا بنیادی حق فراہم نہیں کیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے کیس کو دو ماہ کے …
محکمانہ انکوائری میں افسر کو جرح کا حق نہ دینا آرٹیکل 10-اے کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے ایک افسر کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمانہ انکوائری کے دوران افسر کو گواہوں کی جرح کا بنیادی حق فراہم نہیں کیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے کیس کو دو ماہ کے اندر ازسرنو شفاف اور مکمل انکوائری کے لیے متعلقہ محکمے کو واپس بھجوا دیا ہے جبکہ انکوائری مکمل ہونے تک افسر کو ملازمت پر بحال رکھنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
منگل کو سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے جاری منظور شدہ تحریری فیصلہ جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ پٹیشنر جو موٹروے پولیس میں بطور پٹرولنگ آفیسر (سب انسپکٹر) فرائض انجام دے رہے تھے، پر الزام تھا کہ ان کا ایک سینئر ایڈمن آفیسر کے ساتھ جھگڑا ہوا جس پر 2016 کے قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی کے بعد انہیں برطرف کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں ان کی اپیلیں محکمانہ سطح اور فیڈرل سروس ٹربیونل دونوں نے مسترد کر دی تھیں۔عدالت میں پٹیشنر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انکوائری میں چار گواہان کی جرح کا موقع فراہم نہیں کیا گیا اور انکوائری افسر نے اس بنیادی ضمانت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔
مزید کہا گیا کہ برطرفی کا حکم ایک ایکٹنگ سیکٹر کمانڈر نے جاری کیا جو اس عہدے کا باضابطہ مجاز افسر نہیں تھا۔سرکاری وکیل نے ان دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی قواعد کے مطابق ہوئی اور ایکٹنگ سیکٹر کمانڈر کو ایسے معاملات دیکھنے کی باقاعدہ اجازت تھی تاہم گواہان کی جرح کے بارے میں کوئی واضح ریکارڈ عدالت کو فراہم نہ کیا جا سکا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جرح کا حق محکمانہ کارروائیوں میں ایک لازمی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل تقاضا ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ انکوائری افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرح کے حق کو واضح طور پر فراہم کرے ، نہ کہ اس کا انحصار اس بات پر چھوڑ دیا جائے کہ ملزم خود درخواست کرے یا نہ کرے۔عدالت نے اس بنیاد پر برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی انکوائری آئین کے آرٹیکل 10-اے کے عین مطابق کی جائے اور اس عمل میں تمام فریقین کو برابر کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ نئے فیصلے تک ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہے گا اور بقایا واجبات کا تعین بھی ازسرنو انکوائری کے دوران کیا جائے گا۔








