فیصل آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ زیادہ سردی اور کورے کے باعث پودوں کے تنوں، شاخوں اور پتوں کے خلیوں میں پانی جم کر برف بن جاتا ہے جس سے پودوں کی بڑھوتری بری طرح متاثر ہوتی ہے اور شدید سردی کی وجہ سے پودے مر بھی جاتے ہیں اس لئے پودوں کو زیادہ سردی اور کورے سے بچانے کے کاشتکار محکمہ زراعت …
محکمہ زراعت نے پودوں کو سخت سردی اور کورے سے بچانے کیلئے سفارشات جاری کر دیں

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 14 جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ زیادہ سردی اور کورے کے باعث پودوں کے تنوں، شاخوں اور پتوں کے خلیوں میں پانی جم کر برف بن جاتا ہے جس سے پودوں کی بڑھوتری بری طرح متاثر ہوتی ہے اور شدید سردی کی وجہ سے پودے مر بھی جاتے ہیں اس لئے پودوں کو زیادہ سردی اور کورے سے بچانے کے کاشتکار محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع چوہدری خالد محمود نے ’’اے پی پی ‘‘ کو بتایا کہ باغات کو سخت سردی سے بچانے کیلئے پودوں کے تنوں پر چونے اور نیلے تھوتھا کے محلول سے سفیدی کرنی چاہیے اس سے سردی کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس کے علاوہ پودوں کے تنے کے گرد پرانی بوری یا پرالی لپیٹ کر بھی سردی کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔کیڑے اور بیماریاں پودوں کو کمزور کر دیتی ہیں اس لئے ان کا بروقت تدارک کیا جانا ضروری ہے تاکہ پودے تندرست اور توانا رہیں۔
کاشتکار کہر کی متوقع راتوں کو آبپاشی ضرور کریں کیونکہ آبپاشی کرنے سے زمین کے درجہ حرارت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے اور پودا سردی کے متوقع اثرات سے محفوظ رہتا ہے باغات میں پودوں کی عمر کے مطابق پودوں کے گھیرے میں گلا سڑا گوبر بکھیرنے سے زمینی درجہ حرارت میں تبدیلی کو روک کر کورے کے ممکنہ نقصان سے کافی حد تک بچایا جا سکتا ہے۔نرسری میں پھلدار پودوں کو شیشم وغیرہ کی شاخوں سے اس طرح ڈھانپیں کہ دن کے وقت سورج کی روشنی ان پر پڑتی رہے۔نرسری میں نازک پودوں کو سخت سردی سے بچانے کیلئے خصوصی انتظامات کرنے چاہیں۔کاشتکار چھوٹی سبزیوں اور نرسریوں کو رات کے وقت پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیں اس کے علاوہ فصل کے شمال کی طرف سرکنڈا لگا دیں تاکہ فصل شمال کی طرف آنے والی ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رہیں۔








