ملتان۔ 23 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب رواں سال کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا،صوبہ بھر میں مقررہ ہدف سے21 فیصد کم کپاس کی کاشت ہوئی،جس سے زرعی و ٹیکسٹائل شعبہ سمیت مزدور طبقہ اور کاشتکاروں کی معیشت پر اثر پڑ سکتاہے،کپاس ایک اہم فصل ہے اور یہ ملکی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے جبکہ اس سے بہت سے افراد کو روزگار بھی میسر …
محکمہ زراعت پنجاب رواں سال کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہ کرسکا

مزید خبریں
ملتان۔ 23 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب رواں سال کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا،صوبہ بھر میں مقررہ ہدف سے21 فیصد کم کپاس کی کاشت ہوئی،جس سے زرعی و ٹیکسٹائل شعبہ سمیت مزدور طبقہ اور کاشتکاروں کی معیشت پر اثر پڑ سکتاہے،کپاس ایک اہم فصل ہے اور یہ ملکی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے جبکہ اس سے بہت سے افراد کو روزگار بھی میسر آتا ہے، بشمول ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مزدور اور دیہی علاقوں کی غریب خواتین جو کپاس کی چنائی کرتی ہیں کپاس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہیں،تاہم محکمہ زراعت،پیسٹی سائیڈ کمپنیوں اور کاشتکاروں کے باہمی تعاون سے بہترین پیداوار حاصل کر کے کپاس کی کاشت کی کمی کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق شمالی پنجاب میں کپاس کے رواں سال مقرر کردہ ٹارگٹ سے 26.8 فیصد کم کاشت ہوئی، سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژنوں میں متعلقہ اہداف کا 71 اور 87 فیصد حاصل ہوا ہے،کاٹن ہب (کپاس کا مرکز ) کہلانے والے جنوبی پنجاب میں بھی مقررہ ہدف سے 21 فیصد کم کپاس کاشت ہوئی ہے،ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپورڈویژن نے بالترتیب اپنے اہداف کا 73، 61 اور 87 فیصد حاصل کیا ہے۔کپاس کی رسد میں کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ شعبہ ہمیشہ ملکی معیشت کیلئے ایک اہم حصہ رہا ہے،ٹیکسٹائل کا شعبہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور ملکی برآمدات میں بھی بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے،باہمی تعاون سے بہترین پیداوار حاصل کر کے کپاس کی کاشت کی کمی کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اتوار کے روزسیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب عطیل نے کپاس کی کاشت میں کمی پریہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سیزن کپاس کی کاشت میں کمی کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے،موسمی حالات گندم کی کٹائی کے لیے موزوں نہیں تھے،جس کیوجہ سے کپاس کی بروقت کاشت کے لیے زرعی رقبے دستیاب نہیں آئے۔انہوں نے بتایا کہ تاہم محکمہ زراعت پنجاب کپاس کی 35 لاکھ ایکڑ پرکاشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ماہ اپریل کے دوران کپاس کی کاشت کیلئے زمین دستیاب ہوتی تو محکمہ یقینی طور پرمقررہ چالیس لاکھ ایکڑ اراضی پر کپاس کاشت کا ہدف پورا کر لیتا۔ ثاقب علی عطیل نے مزید بتایا کہ کپاس کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ضلع وہاڑی سے تعلق رکھنے والے سجاد اور آفتاب محمود بورانہ نامی ترقی پسند کاشت کاروں نے اے پی پی سے گفتگو میں کہا کہ رواں سال کپاس کی بوائی میں تاخیرہوئی جس سے کپاس کی زیادہ کاشت والے علاقے بھی متاثرہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے افسران اور کسانوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور باہمی منصوبہ بندی و تعاون سے کپاس کی بہترین پیداوار حاصل کرکے کپاس کی کم کاشت کے ممکنہ اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نےمزید کہا کہ بیج، کھاد، بجلی کے نرخوں اورکیڑے مار ادویات کے اخراجات نے کسانوں کے لیے کپاس سمیت دیگر فصلوں کی کاشت میں سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا دیا ہے،حکومت سے اپیل ہے کہ بیج، کھاد، بجلی کے نرخوں اورکیڑے مار ادویات کی قیمتوں میں کاشتکاروں کوریلیف فراہم کیا جائے۔








