بہاولپور۔ 02 اپریل (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب کے زیرِ اہتمام ”زیادہ کپاس اگاؤ“ مہم کے تحت بہاولپور میں افتتاحی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں تھیں جبکہ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) بہاولپور محمد جمیل غوری، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) حافظ محمد شفیق سمیت دیگر افسران اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں نے اپنے خطاب میں کہا …
محکمہ زراعت پنجاب کے زیرِ اہتمام ”زیادہ کپاس اگاؤ“ مہم کے تحت بہاولپور میں افتتاحی سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
بہاولپور۔ 02 اپریل (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب کے زیرِ اہتمام ”زیادہ کپاس اگاؤ“ مہم کے تحت بہاولپور میں افتتاحی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں تھیں جبکہ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) بہاولپور محمد جمیل غوری، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) حافظ محمد شفیق سمیت دیگر افسران اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کپاس پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کا انحصار بھی اسی فصل پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور ڈویژن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں کاشت ہونے والی کپاس کا تقریباً 50 فیصد اسی ڈویژن میں پیدا ہوتا ہے لہٰذا اس خطے کی اہمیت اور ذمہ داری دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی بہتر پیداوار نہ صرف کاشتکار کی آمدن میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ملکی برآمدات کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔کمشنر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے کسان دوست اقدامات کے تحت سوا لاکھ کسان کارڈز تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ کسان کارڈ فیز ٹو کی رجسٹریشن کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ انٹرن شپ پروگرام کے تحت 348 زرعی گریجویٹس فیلڈ میں عملی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹرز پروگرام کے تحت 4045 ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ بہاولپور ڈویژن میں تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے کاٹن ویلی منصوبہ بھی شروع کیا جا چکا ہے، جس کے تحت کاشتکاروں کو چزل پلو، ماڈل فارمز اور پاور سپریئرز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کپاس کی کاشت کے سیزن میں نہری پانی کی بروقت دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔کمشنر بہاولپور ڈویژن نے مزید کہا کہ کپاس کی کاشت کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ ٹیمیں پوری طرح متحرک ہیں اور کاشتکاروں کو ہر ممکن رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے جاری اقدامات، خصوصاً کسان کارڈ، گرین ٹریکٹرز اور کاٹن ویلی جیسے منصوبے کاشتکاروں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ کاشتکاروں کو معیاری زرعی مداخل بروقت اور مقررہ نرخوں پر دستیاب ہوں تاکہ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ڈائریکٹر زراعت (توسیع) بہاولپور محمد جمیل غوری نے بتایا کہ بہاولپور ڈویژن میں کپاس کی کاشت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور رواں سیزن تقریباً 17 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی جائے گی۔
اس سلسلہ میں جامع حکمت عملی مرتب کر کے فیلڈ فارمیشنز کو واضح اہداف تفویض کر دیے گئے ہیں جبکہ ان کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی مداخل کی مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے مارکیٹوں کی سخت نگرانی جاری ہے اور کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہو۔انہوں نے مزید بتایا کہ کاٹن ویلی منصوبہ کے تحت 2645 چزل پلو، 945 ماڈل فارمز اور 13 ہزار پاور سپرئیرز سبسڈی پر کاشتکاروں کو فراہم کیے جائیں گے، جس کے لیے آن لائن پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں چزل پلو پر فی یونٹ 1 لاکھ 20 ہزار روپے، کاٹن ماڈل فارم کے قیام پر فی فارم 50 ہزار روپے اور پاور سپریئر کے لیے فی یونٹ 25 ہزار روپے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ مقررہ تاریخ تک درخواستیں جمع کروا کر اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔








