فیصل آباد۔ 20 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت کی جانب سے دھان کے کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دھان کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ اقسام میں سپرباسمتی، باسمتی 370، باسمتی 385، باسمتی پاک (کرنل باسمتی)، باسمتی 2000، باسمتی 515، پی ایس 2، پی کے 386 اور باسمتی 198 وغیرہ(صرف ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئے)کی پنیری،شاہین باسمتی کی پنیری کاموزوں وقت کاشت30جون تک ہے جبکہ …
محکمہ زراعت کی دھان کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ اقسام کاشت کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 20 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت کی جانب سے دھان کے کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دھان کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ اقسام میں سپرباسمتی، باسمتی 370، باسمتی 385، باسمتی پاک (کرنل باسمتی)، باسمتی 2000، باسمتی 515، پی ایس 2، پی کے 386 اور باسمتی 198 وغیرہ(صرف ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئے)کی پنیری،شاہین باسمتی کی پنیری کاموزوں وقت کاشت30جون تک ہے جبکہ ہائبرڈ اقسام وائی 26، پرائیڈ 1، شہنشاہ 2، پی ایچ بی 71اور آرائز سوئفٹ وغیرہ کی پنیری کی کاشت بھی جلدمکمل کرکے پیداوار کاہدف حاصل کیاجاسکتا ہے۔
نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا کہ فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ سمیت پنجاب بھر میں 44لاکھ 40ہزار ایکڑسے زائد رقبہ پر دھان کی کاشت کاہدف مقرر کیاگیاہے جہاں سے 35لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہونے کاامکان ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کوسپرفائن، کشمیر ا، مالٹا، ہیرو، سپرااور اسی طرح کی دیگرممنوعہ و غیر منظور شدہ اقسام کی ہرگز کاشت نہ کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہاکہ کاشتکار صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں تاکہ دھان کی فصل کو بکائنی اور پتوں کے بھورے دھبوں جیسی بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ صحت مند فصل حاصل کی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ دھان کی فصل ہرقسم کی زمین میں کاشت کی جاسکتی ہے سوائے ایسی ریتلی زمینوں کے جہاں پانی کھڑا نہ رہ سکے۔
انہوں نے بتایاکہ ذرخیز زمینوں کے علاوہ ایسی شور زدہ کلراٹھی زمینوں میں بھی دھان کامیابی سے کاشت کیاجاسکتاہے جہاں کوئی اور فصل کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر بحساب 2 سے اڑھائی گرام فی کلو بیج کو لگائیں اور شرح بیج مروجہ طریقہ کاشت کے حساب سے رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر موٹی اقسام کی پنیری کدو کے طریقہ سے کاشت کرنی ہو تو 6سے 7کلو گرام، خشک طریقہ میں 8 سے 10کلوگرام، داب کے طریقہ میں 12 سے15کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ہائبرڈ اقسام کے کدو کے طریقہ سے شرح بیج 6کلوگرام فی ایکڑ رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر دھان کی پنیری کمزور نظر آئے تو ایک پاؤ یوریا یا نصف کلو امونیم سلفیٹ فی مرلہ کے حساب سے پنیری کی منتقلی سے قبل ڈالنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار اس ضمن میں مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔








