محکمہ زراعت کی دھان کی فصل کی برداشت کے وقت احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری

محکمہ زراعت نے دھان کی فصل کی برداشت کے وقت احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری کر دیں۔

فیصل آباد۔ 15 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کی فصل کی برداشت کے وقت احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری کر دیں۔

ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات ڈاکٹر آصف علی نے بتایا کہ دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کی جائیں جبکہ ممنوعہ زہریں ہرگز استعمال نہ کریں۔ زہروں کے استعمال اور فصل کی برداشت کے درمیان وقفہ لازمی مدنظر رکھا جائے تاکہ جنس میں زرعی زہروں کی باقیات قابلِ قبول حد میں رہیں۔انہوں نے کہا کہ دھان کی اگیتی کاشتہ فصل کٹائی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ کاشتکار دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں مگر ہلکے سبز ہوں۔

اس مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب 20 تا 22 فیصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ برداشت کے لیے ترجیحاً رائس ہارویسٹر (کبوٹا)مشین استعمال کریں، تاہم اگر دستیاب نہ ہو تو کمبائن ہارویسٹر میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر کے استعمال کریں تاکہ دانے ٹوٹنے سے بچ سکیں اور پیداوار و معیار متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ کٹائی کا عمل شبنم ختم ہونے کے بعد شروع کریں۔ برداشت کے بعد مونجی کو بڑے ڈھیروں میں جمع نہ کریں کیونکہ اس سے ایفل ٹاکسن لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو چاول کے معیار، قیمت اور قبولیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مونجی کو اچھی طرح سکھا کر محفوظ کریں اور ذخیرہ کرتے وقت نمی کا تناسب 12 تا 13 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔

انہوں نے دھان کے کاشتکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت فصل کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ فصل کی باقیات کو جلانے سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ اور مفید جاندار ختم ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ کا باعث بنتا ہے، جو انسانی صحت اور ٹریفک حادثات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس ضمن میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے لہٰذا کاشتکار دھان کی باقیات کی تلفی کیلئے سپر سیڈرز یا محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔