محکمے میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت بارے سوشل میڈیا پر زیر گردش الزامات حقائق کے منافی ہیں، ترجمان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان

کوئٹہ۔ 17 فروری (اے پی پی):محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نے محکمے میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت بارے سوشل میڈیا پر زیر گردش الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔یہ بات ترجمان محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نے ایک ہنگامی وضاحتی بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پرمحکمے میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت بارے زیر گردش الزامات بے بنیاد، من گھڑت …

کوئٹہ۔ 17 فروری (اے پی پی):محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نے محکمے میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت بارے سوشل میڈیا پر زیر گردش الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔یہ بات ترجمان محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نے ایک ہنگامی وضاحتی بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پرمحکمے میں مبینہ غیر شفاف بھرتیوں اور صوبائی حکومت بارے زیر گردش الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور دانستہ طور پر گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں جن کا مقصد ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ آغا عبید نامی یوٹیوبر کے پلیٹ فارم “اولس” کی جانب سے نہ صرف جھوٹا اور من گھڑت پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے بلکہ اس ضمن میں محکمے کے افسران کے ساتھ ٹیلیفونک رابطوں میں گالم گلوچ کی گئی اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ترجمان کے مطابق یوٹیوبر کی کال ریکارڈنگز اور دیگر متعلقہ شواہد محکمے کے اعلیٰ حکام کے پاس بطور ثبوت محفوظ ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر متعلقہ قانونی فورمز پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل مذکورہ یوٹیوبر کے کزن کی ایک گاڑی دورانِ چیکنگ تحویل میں لی گئی جو ابتدائی جانچ کے مطابق غیر قانونی دستاویزات کے باعث زیرِ کارروائی آئی۔ اس ضمن میں متعلقہ یوٹیوبر کی جانب سے بھی گاڑی چھوڑنے کے لیے محکمے کے متعلقہ افسر کو پیغام موصول ہوا، تاہم محکمے نے کسی بھی قسم کے دباؤ، سفارش یا مبینہ بلیک میلنگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی اور گاڑی کو ضابطے کے تحت قانونی تحویل میں رکھا۔ترجمان نے کہا کہ سرکاری امور میں مداخلت، دباؤ ڈالنے اور دھمکی آمیز رویے کے تناظر میں متعلقہ یوٹیوبر کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا منفی تاثر دراصل ذاتی مفادات کے تحفظ کی کوشش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جھوٹے، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر میں ملوث عناصر کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرئمز ایکٹ (پیکا ایکٹ) کے تحت بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ محکمے میں ہونے والی تمام بھرتیاں حکومت بلوچستان کے مقررہ قواعد و ضوابط، میرٹ پالیسی اور مکمل شفاف طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا اقربا پروری کا تاثر حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری معلومات کے حصول کے لیے مستند اور سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔