مسابقتی کمیشن کی ’’ڈیجیٹل معیشت میں مسابقتی خدشات‘‘ کے عنوان سے ورکشاپ

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے ’’ڈیجیٹل معیشت میں مسابقتی خدشات‘‘ کے عنوان پر ورکشاپ منعقد کی ۔ ورکشاپ میں یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ کی لیکچرار برائے کمپٹیشن لا ء ڈاکٹر امبر ڈار نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بگ ڈیٹا، الگورتھمز اور نیٹ ورک ایفیکٹس کے تیزی سے پھیلاؤ پر لیکچر دیا ۔ انہوں نے مارکیٹوں میں آنے والی تبدیلیوں اور دنیا بھر میں کمپٹیشن کے اداروں کو …

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے ’’ڈیجیٹل معیشت میں مسابقتی خدشات‘‘ کے عنوان پر ورکشاپ منعقد کی ۔ ورکشاپ میں یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ کی لیکچرار برائے کمپٹیشن لا ء ڈاکٹر امبر ڈار نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بگ ڈیٹا، الگورتھمز اور نیٹ ورک ایفیکٹس کے تیزی سے پھیلاؤ پر لیکچر دیا ۔ انہوں نے مارکیٹوں میں آنے والی تبدیلیوں اور دنیا بھر میں کمپٹیشن کے اداروں کو درپیش نئے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا ۔ ڈاکٹر امبر ڈار نے ڈیجیٹل مارکیٹوں کی اہم خصوصیات اور معیشتِ پر بڑھتا ہوا والیم ، مارکیٹ ٹِپنگ، مارکیٹ پاور اور الگورتھمک پر بات کی۔

انہوں نے زیرو پرائس اور جدید انوائرمنٹ میں متعلقہ مارکیٹ کی تعریف اور اجارہ داری کے تعین سے متعلق پیچیدگیوں پر بھی گفتگو کی۔انہوں نے قابل ذکر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے کہ گوگل، ایپل اور ایمازون کا حوالہ دیتے ہوئے اجارہ داری کے غلط استعمال، ٹائنگ اور بنڈلنگ کے طریقہ کار، غیر منصفانہ تجارتی شرائط اور ڈیجیٹل مارکیٹوں میں عمودی معاہدوں کے ارتقا جیسے امور کو اجاگر کیا۔ لیکچر میں پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کو علاقائی اور عالمی تناظر میں بھی پرکھا گیا ۔ورکشاپ میں مسابقتی کمیشن کے مینجمنٹ ایگزیکٹوز سے لے کر ڈائریکٹر جنرلز تک افسران نے شرکت کی۔ شرکا نے متعلقہ ریگولیشنز اور ان کے نفاذ سے متعلق چیلنجز پر بھرپور تبادلہ خیال کیا۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان ’’ڈیجیٹل معیشت میں مسابقتی خدشات‘‘ کے عنوان پر ورکشاپ منعقد کی گئی۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ کی لیکچرار برائے کمپٹیشن لا ء ڈاکٹر امبر ڈار نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بگ ڈیٹا، الگورتھمز اور نیٹ ورک ایفیکٹس کے تیزی سے پھیلاؤ پر لیکچر دیا ۔ انہوں نے مارکیٹوں میں آنے والی تبدیلیوں اور دنیا بھر میں کمپٹیشن کے اداروں کو درپیش نئے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر امبر ڈار نے ڈیجیٹل مارکیٹوں کی اہم خصوصیات اور معیشتِ پر بڑھتا ہوا والیم ، مارکیٹ ٹِپنگ، مارکیٹ پاور اور الگورتھمک اور ڈیٹا کی بنیاد پر ملی بھگت کے بارے تفصیلی بات کی۔

انہوں نے زیرو پرائس اور جدید انوائرمنٹ میں متعلقہ مارکیٹ کی تعریف اور اجارہ داری کے تعین سے متعلق پیچیدگیوں پر بھی گفتگو کی۔انہون نے قابل ذکر ڈیجیٹل پلیٹ فارمس جیسے کہ گوگل، ایپل اور ایمیزون کا حوالہ دیتے ہوئے اجارہ داری کے غلط استعمال، ٹائنگ اور بنڈلنگ کے طریقہ کار، غیر منصفانہ تجارتی شرائط اور ڈیجیٹل مارکیٹوں میں عمودی معاہدوں کے ارتقا جیسے امور کو اجاگر کیا۔ لیکچر میں پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کو علاقائی اور عالمی تناظر میں بھی پرکھا گیا ۔ورکشاپ میں مسابقتی کمیشن کے مینجمنٹ ایگزیکٹوز سے لے کر ڈائریکٹر جنرلز تک افسران نے شرکت کی۔ شرکاء نے متعلقہ ریگولیشنز اور ان کے نفاذ سے متعلق چیلنجز پر بھرپور تبادلہ خیال کیا۔