مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ابھی سے غذائی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی،کسان بورڈ

فیصل آباد۔ 30 مئی (اے پی پی):پاکستان کی آبادی اس وقت 24ملین سے بھی تجاوز کر گئی ہے جو سال 2050تک بڑھ کر295ملین تک پہنچ جائے گی جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے عفریت کے باعث ملک کو آنیوالے سالوں میں غذائی استحکام کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن سے عہدہ برآہونے کیلئے متناسب زراعت کی جدتوں کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ جدید الٹراسانک سنسنگ نظام …

فیصل آباد۔ 30 مئی (اے پی پی):پاکستان کی آبادی اس وقت 24ملین سے بھی تجاوز کر گئی ہے جو سال 2050تک بڑھ کر295ملین تک پہنچ جائے گی جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے عفریت کے باعث ملک کو آنیوالے سالوں میں غذائی استحکام کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن سے عہدہ برآہونے کیلئے متناسب زراعت کی جدتوں کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ جدید الٹراسانک سنسنگ نظام کے تحت ضروریات کے مطابق زرعی مداخل سے بھرپور پیداوار کا نظام اپنانا ہو گا۔پاکستان کسان بورڈکے مرکزی رہنمامیاں ریحان الحق نے بتایاکہ دنیا بھر میں زمینی زرخیزی، پانی کی مطلوبہ مقدار، فصلوں اور پھلدار درختوں کے پھیلاؤ اور حجم کے مطابق کھاد کی ضروریات اور کیڑے مار ادویات کے سپرے کے بارے میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سینسنگ پیمانہ جات کو استعمال کرتے ہوئے کئی گنا زائد پیداوار حاصل کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں ابھی اس ٹیکنالوجی پر باقاعدہ پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔

انہوں نے بتایاکہ کینیڈا میں کئے جانے والے تجربات سے جی پی ایس اور جی آئی ایس کے علاوہ مواصلاتی سیارے کی مدد سے آبی و زمینی وسائل کی صورتحال اور زرعی ضروریات کا احاطہ کر کے کم سے کم لاگت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیداوار کی راہیں ہموار کی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی نے پاکستان کو دنیا کا چوتھا بڑا ملک بنا دیا ہے جہاں آبادی کی وجہ سے مناسب غذائی ضروریات کو پورا کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے اس سلسلے میں ہمیں قدرتی وسائل کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے متناسب استعمال پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کے متناسب ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلاب کی تباہ کاری کے ساتھ ساتھ قیمتی ذرخیز پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے اور اس نعمت کو بیدردی سے ضائع کر دینا آنیوالی نسلوں کیلئے انتہائی پریشان کن صورتحال کی بنیاد رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کسان آج بھی پانی کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس امرپر اطمینان کااظہار کیاکہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد بیڈٹیکنالوجی کے ذریعے جہاں پانی کی بچت پر مبنی سستی اور آسان ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے وہیں دیگر غیرروایتی طریقوں کے حوالے سے بھی پیش رفت کو ممکن بنانا ہو گا۔

مزید خبریں