چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ انصاف پر زور
مسلسل عدالتی تربیت اور بین الصوبائی تعاون موثر، شفاف اور قابل اعتماد نظام انصاف کے لیے ناگزیر ہیں، چیف جسٹس پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ مسلسل عدالتی تربیت، بین الصوبائی تعاون اور بہترین عدالتی روایات کا تبادلہ ملک میں انصاف کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ناگزیر ہے، عدلیہ کا اصلاحاتی ایجنڈا شہریوں کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف اور موثر نظام انصاف کی فراہمی پر مرکوز ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جوڈیشل فیلوشپ پروگرام کے شرکا جن میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل افسران شامل تھے، نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی۔ یہ فیلوشپ پروگرام سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آر ایس آئی ایل) کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جوڈیشل فیلوشپ پروگرام کا آغاز ان کے عدالتی اصلاحاتی وژن کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد بین الصوبائی تعاون کو فروغ دینا، جوڈیشل افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، تحقیق پر مبنی تعلیم، عدالتی فلاح و بہبود اور مختلف صوبوں کے عدالتی تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام عدالتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں، بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور جوڈیشل افسران کی پیشہ ورانہ استعداد کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی عدالتی تعلیم اور بین الصوبائی روابط انصاف کی فراہمی میں یکسانیت، معیار اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔چیف جسٹس نے شرکا کو عدلیہ کے جاری اصلاحاتی پروگرام سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ قومی جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے تحت ملک بھر کی ضلعی عدالتوں میں ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے سولر انرجی سسٹمز، ای لائبریریاں، قابل اعتماد انٹرنیٹ، صاف پینے کے پانی کی سہولت اور خواتین سائلین کے لیے محفوظ مقامات فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ ان منصوبوں کی تکمیل اگست 2026ء تک متوقع ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو 2027 کے تحت ملک بھر میں خواتین سہولت مراکز کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عدالتوں سے رجوع کرنے والی خواتین کو باوقار، مربوط اور آسان خدمات میسر آ سکیں۔ملاقات کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس نے جوڈیشل افسران کے مختلف سوالات کے جواب دیئے اور انہیں تلقین کی کہ وہ دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت، جدت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انصاف کی فراہمی کے مشن کو آگے بڑھائیں۔








