مسلمان پڑوسی بھی ناقابل قبول،کولکتہ کی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ہندو مکینوں نے کرائے پر مقیم چار مسلمان ڈاکٹروں کو اپنے پڑوس میں واقع فلیٹ سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا

کولکتہ۔ 2 اگست (اے پی پی) بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ہندو مکینوں نے کرائے پر مقیم چار ڈاکٹروں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوس میں واقع فلیٹ سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت میں اکثریتی آبادی رکھنے والے ہندووں کی تنگ نظری اور مذہبی روا داری کی دگرگوں صورتحال کا …

کولکتہ۔ 2 اگست (اے پی پی) بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ہندو مکینوں نے کرائے پر مقیم چار ڈاکٹروں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوس میں واقع فلیٹ سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت میں اکثریتی آبادی رکھنے والے ہندووں کی تنگ نظری اور مذہبی روا داری کی دگرگوں صورتحال کا نیا چہرہ بے نقاب ہوا ہے ۔ اس واقع سے بھارت میں مقیم کروڑوں مسلمانوں کو اکثریتی آبادی ہندووں کی طرف سے درپیش مشکلات اور متعصبابہ رویے کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ۔بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلیٹ کے مالک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسے اپنے کرایہ داروں سے کوئی شکایت نہیں لیکن وہ ہاﺅسنگ سوسائٹی میں مقیم دیگر افراد کی رویے کی وجہ سے فلیٹ خالی کروانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ ادھر فلیٹ میں مقیم چار مسلمان ڈاکٹروں آفتاب عالم، مجتبیٰ حسن، نصیر شیخ اور شوکت شیخ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی بڑی مشکل سے یہ فلیٹ ڈھونڈا تھا کیونکہ کوئی بھی ان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے مکان کرائے پر دینے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت ہاﺅس جاب کررہے ہیں اور ہندووں کو ان سے علاج کرانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن پڑوس میں رہنے پر شدید اعتراض ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ہندو پڑوسیوں نے ان سے ملاقات کے لئے آنے والے ایک مہمان کو ڈرایا دھمکایا اور اس گالیاں دیں۔

مزید خبریں