مشرقِ وسطیٰ بحران،بنگلہ دیش میں بجلی کا استعمال کم کرنے کے لیے نئی کفایت شعاری پالیسی نافذ

ڈھاکہ ۔6اپریل (اے پی پی):بنگلہ دیش میں مختصر ورکنگ ویک (کام کے اوقات میں کمی) کا آغاز کر دیا گیا، جو توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کی نئی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث ملک کو بجلی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔عرب نیوز کی ایک …

ڈھاکہ ۔6اپریل (اے پی پی):بنگلہ دیش میں مختصر ورکنگ ویک (کام کے اوقات میں کمی) کا آغاز کر دیا گیا، جو توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کی نئی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث ملک کو بجلی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 17 کروڑ آبادی والے اس ملک کو اپنی توانائی کی 95 فیصد ضروریات پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش طویل عرصے سے عالمی توانائی منڈی میں آنے والی رکاوٹوں کے تناظر میں مشکلات کی زد میں رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک خام تیل کی درآمد بند رہنے کے بعد حکومت نے سرکاری اور نجی دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک محدود کر دیے ہیں، جبکہ بینکنگ خدمات کے اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔حکومت نے بازاروں میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں اور سرکاری و نجی دونوں جگہوں پر روشنی کے استعمال کو محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔