اقوام متحدہ ۔6اپریل (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے چیف اکنامسٹ میکسمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی غذائی سلامتی کے لیے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو خوراک، کھاد اور ایندھن کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔شِنہوا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ٹوریرو …
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی غذائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔6اپریل (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے چیف اکنامسٹ میکسمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی غذائی سلامتی کے لیے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو خوراک، کھاد اور ایندھن کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔شِنہوا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ٹوریرو نے کہا کہ یہ بحران اُن ممالک کی کمزوری کو بے نقاب کر رہا ہے جن کی مقامی پیداوار محدود ہے اور جو بیرونی سپلائی راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصل تقسیم امیر اور غریب ممالک کے درمیان نہیں بلکہ اُن کے درمیان ہے جن کے پاس مقامی ذخائر موجود ہیں اور جو ان سے محروم ہیں۔
ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زرعی و غذائی نظام میں لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے اور کمزور معیشتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ٹوریرو کے مطابق خلیجی ممالک، اپنی مالی حیثیت کے باوجود، خوراک کی درآمدات اور سمندری تجارت پر انحصار کے باعث خاصے حساس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر سپلائی چین کی رکاوٹوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔انہوں نے جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ کے بعض حصوں کو بھی تشویش ناک قرار دیا، جہاں کھاد اور توانائی کی فراہمی میں خلل زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے، خصوصاً بوائی کے موسم میں۔ محدود مالی وسائل رکھنے والے ممالک کے لیے درآمدی اخراجات میں اضافے کو برداشت کرنا یا ہنگامی خریداری کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ٹوریرو نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک جہاں پہلے ہی زرعی وسائل محدود ہیں، وہاں معمولی کمی بھی پیداوار میں غیر متناسب طور پر بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ایف اے او نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف خوراک کی قیمتوں کو ہی نہیں بلکہ کھاد کی قیمتوں، گیس کی فراہمی، شپنگ کے بہاؤ اور سمندری انشورنس لاگت جیسے عوامل کی بھی نگرانی کریں۔انہوں نے سلفر کو ایک اہم مگر نظرانداز عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فاسفیٹ کھاد کی تیاری کے لیے ضروری ہے اور اس کی فراہمی میں رکاوٹ کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ٹوریرو نے خبردار کیا کہ زراعت حیاتیاتی اوقات کی پابند ہوتی ہے۔ اگر اہم بوائی کے مواقع ضائع ہو جائیں تو بعد کی کوششیں نقصان کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھاد کے استعمال میں کمی ہمیشہ پیداوار میں متناسب کمی کا باعث نہیں بنتی، بلکہ کمزور زرعی نظام میں معمولی کمی بھی پیداوار کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ایف اے او کے مطابق موجودہ صورتحال میں بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی غذائی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔








