مشکلات کے باوجود کشمیری بھارت سے آزادی لے کر رہیں گے ، جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر سیمینار سے مقررین کا خطاب

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر جموں کشمیر ہائوس اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر وزیر میاں عبد الوحید تھے ۔سیمینار میں آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان ،سابق صدر سردار مسعود خان ،سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ،سابق وزیراعظم سردار محمد عتیق خان …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر جموں کشمیر ہائوس اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر وزیر میاں عبد الوحید تھے ۔سیمینار میں آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان ،سابق صدر سردار مسعود خان ،سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ،سابق وزیراعظم سردار محمد عتیق خان ،وزیر نبیلہ ایوب ،امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر و گلگت بلتستان راجہ ڈاکٹر محمد مشتاق ،حریت رہنما الطاف بٹ، شمیم شال ،ڈاکٹر راجہ سجاد خان ،راجہ خان افسر خان ،سردار ساجد محمود ،سردار علی شان ،سردار نجیب الغفور ،راجہ راشد رضا ،خواجہ عمران الحق ،سردار صدیق ،ظفر مغل ،راجہ بشیر ،بشیر عثمانی ،راجہ عبدالجبار،روبینہ بٹ ،وسیم یونس ،رافع احمد ،خواجہ عرفان بانڈے سمیت سیاسی و سماجی رہنمائوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔

سیمینار سے خطاب کرتے سینئر وزیر میاں عبد الوحید نے کہا کہ نبیلہ ایوب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک قومی نوعیت کے سیمینار کا انعقاد کیا ،لبریشن سیل کا شکریہ،پانچ جنوری یوم حق خودارادیت کا دن ہے، اس کی اہمیت اور تاریخی پس منظر مسلمہ ہے،یوم حق خودارادیت کی قرارداد وہ واحد دستاویز ہے جس کو لے کر ہم اقوام عالم کے سامنے مسئلہ کشمیر اجاگر کر سکتے ہیں اور پیش بھی کر سکتے ہیں، اس کا تاریخی پس منظر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے اصل فریق کشمیری ہیں جنہوں نے اپنی تحریک آزادی کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی پیش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکیں ماہ و سال کی پابندی نہیں انشاء اللہ تحریک آزادی کامیابی سے ہم کنار ہو گی، ہمارے وکیل پاکستان نے کشمیر کے لئے تین جنگیں لڑیں ،معرکہ حق کی بدولت مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں اجاگر ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری اندرونی کمزوریوں نے معاملات کو زور کہا ہے مگر ہم نے اس جدوجہد آزادی کو جاری رکھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارا وکیل مضبوط ہے، انشاء اللہ ہماری مضبوط آواز دنیا تک پہنچے گی، ہماری بیس کیمپ کی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ضروری ہے تاکہ ہم یک آواز ہو کر دنیا تک اپنی آواز پہنچائیں ، اتحاد و یکجہتی سے ہی کشمیر کی آزادی ممکن ہے ۔سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ آج کا دن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عمل درآمد کروائے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر تحریک آزادی کو اجاگر کرنا ہو گا ،اس وقت زمانہ میڈیا کا ہے، میں میڈیا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے حوالے سے میڈیا نے کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں ۔

انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ مشکلات کے باوجود بھارت سے آزادی لے کر رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کروائی جائے گی اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار کامیابی نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ۔سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل ہر اہم دن پر سیمینار منعقد کرتے ہیں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،5 اگست کے بھارتی اقدامات کشمیریوں کو قبول نہیں ہیں ،آج کا دن کشمیریوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عملدرآمد کروائے ،ہمیں مل بیٹھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کشمیری رہنمائوں کے درمیان ایک ان کیمرہ اجلاس کی تجویز بھی دی ۔پاکستان کے پاس ابھی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر ایک سال ہے، اسے بھرپور انداز میں استعمال کر کے ہم مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کر سکتے ہیں ،بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ،دنیا کو اس پر توجہ دینا ہو گی۔آزادکشمیر میں گڑبڑ پیدا کر کے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اس لئے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔آزادکشمیر اسمبلی میں بھی ایک اجلاس رکھیں جس میں صرف کشمیر پر بات ہو اور سب اپنی تجاویز دیں ہم سب کو مل کر تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنا ہو گا۔مہاجرین جموں و کشمیر ریاست کا حصہ ہیں اور انہیں کوئی بھی ریاست سے الگ نہیں کر سکتا۔

سابق صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ سوشل میڈیا نے سیاسی اپروچ کو تبدیل کر دیا ہے ،کشمیریوں کا حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے ،اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عملدرآمد کروائے ،امریکا میں سفارتکاری اور پھر آزادکشمیر کی صدارت کے دوران ہم نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ،جو لوگ اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں وہ اپنے آزادی کے عزم پر ڈٹے ہوئے ہیں، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا ،آزادکشمیر کی آزادی شہیدوں کے خون کا صدقہ ہے اور یہ تحریک آزادی کا بیس کیمپ بھی ہے ،جب مہاراجہ کشمیر کے ساتھ سٹینڈ سٹیل معاہدہ ہو گیا تو بھارت کے حکمرانوں نے مہاراجہ پر دبائو ڈالا کہ وہ اس معاہدے کو ختم کرے،اس طرح کچھ سازشی عناصر نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کی راہ ہموار کی اور بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر پر قبضہ کیا مگر اس سب کے باوجود حق خودارادیت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کشمیریوں کو ان کا یہ پیدائشی حق مل کر رہے گا ۔

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کشمیر لبریشن سیل نے بھرپور سیمینار کا انعقاد کیا، اس پر حکومت کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،پانچ جنوری مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس دن کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا ،پہلی دو قراردادیں یہ بیان کرتی ہیں کہ تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے ،کشمیریوں کی تحریک آزادی طویل ہے، شہدا جموں سے لیکر پھر 1990ء کی تحریک کو اب تک جاری ہے، نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔بھارت کے 5 اگست کے اقدامات غیر قانونی ہیں اور وہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے مگر اسے اس میں ناکامی ہو گی ۔مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے،بنیان مرصوص میں پاکستان کی شاندار کامیابی سے دنیا بھر میں پاکستان کو بے حد پذیرائی ملی اور بھارت کا کھوکھلا پن واضح ہوا ۔

فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کو یہ غیر معمولی پذیرائی ملی، ہمیں اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے ۔وزیر حکومت نبیلہ ایوب نے کہا کہ آج کا دن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،آج دنیا بھر میں حق خودارادیت کا دن منایا جا رہا ہے، یہ کشمیریوں کا بنیادی حق ہے ،آج ہم دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں کے دکھ کو سمجھو اور اس مسئلے کا حق نکالو،ہماری تحریک 1832ء سے شروع ہوئی جب سبز علی خان اور ملی خان نے اپنی کھالیں کھنچوائیں ،بھارت یہ معاملہ خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور بھارت کے وزیراعظم نے عالمی ادارے سے کہا کہ وہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیں گے لیکن پھر بھارت اس سے مکر گیا ،اس قرارداد کو 77 سال گزر گئے لیکن کشمیری آج بھی پرعزم ہیں کہ وہ اپنا پیدائشی حق لے کر رہیں گے ۔ہم بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات کو غیر قانونی کہتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طور ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہماری بہادر مسلح افواج نے بھارت کو شکست فاش دی اور مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر اجاگر ہوا۔

انہوں نے سابق وزیراعظم پاکستان قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے کشمیر پر ایک ہزار سال تک جنگ کا آفاقی نظریہ دیا اور ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھ کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ۔انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دے کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت جتنا مرضی ظلم کر کے وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکتا ۔مقررین نے یوم حق خودارادیت کے حوالے سے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی قرارداد پر عملدرآمد کروائے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق دے۔ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل راجہ خان چار خان نے قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔تقریب کی نظامت کے فرائض انچارج میڈیا سیل سردار نجیب الغفور نے ادا کئے ۔تقریب کے اختتام پر راجہ بشیر عثمانی نے شہدائے کشمیر و پاک فوج ،پاکستان کی سلامتی اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لئے خصوصی دعا کی۔