مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو برآمدات میں کمی کا بڑا چیلنج درپیش تھا، تجارتی خسارے کے چیلنج پر قابو پانا بھی اہم مسئلہ تھا، کورونا سے پہلے برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا صورتحال کنٹرول میں آنے کے بعد صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی، حسابات جاریہ کا خسارہ 20 …

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو برآمدات میں کمی کا بڑا چیلنج درپیش تھا، تجارتی خسارے کے چیلنج پر قابو پانا بھی اہم مسئلہ تھا، کورونا سے پہلے برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا صورتحال کنٹرول میں آنے کے بعد صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی، حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3 ارب ڈالر تک آ گیا جو مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا، کوویڈ 19 سے پہلے جنوری اور فروری میں ملکی برآمدات ڈبل ڈجٹ پر آ گئی تھی، کوویڈ 19 کے حالات معمول پر آنے کے بعد مزید بہتری آئے گی، میڈ ان پاکستان کو سپورٹ کرنا ہماری ترجیح ہے، پانچ برآمدی شعبوں کو مراعات دیں اور بین الاقوامی نرخوں پر تیل اور گیس فراہم کی، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 166 ویں درجے سے 108 ویں پر آ گیا ہے، سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کی بھی منظوری ہو چکی ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ بڑے برآمدی شعبوں کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا گیا، ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لئے ای کامرس پالیسی مرتب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کی طرح آئندہ مہینوں میں بھی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پاکستان کا نمبر 166 ویں درجے سے 108 ویں پر آ گیا ہے اور پوری دنیا نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس کی ذمہ داری کی طرف جا رہے ہیں اور وزارت تجارت کو ای کامرس پر لے جانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں جس کا ماضی میں فقدان رہا ہے، جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم کا قانون قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا ہے، یہ بہت اہم قانون ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی ہماری مقامی مصنوعات کا نام استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ ہو گیا ہے، کوویڈ 19 کی وجہ سے اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن اس کیفیت سے نکلنے کے بعد جلد ثمرات آنا شروع ہو جائیں گے، سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کی بھی منظوری ہو چکی ہے جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں کو کثیر الجہت بنانا ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ ہماری آم کی تجارت اس وقت دنیا میں بہترین رہی ہے اور 80 ہزار ٹن برآمد کرنے کی توقع تھی لیکن ایک لاکھ 25 ہزار ٹن آم برآمد ہوا جو حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں بھی ہماری برآمدات کوویڈ کے باوجود بہت بہتر رہیں، ایکس چینج ریٹ کو بھی حقیقی ایکس چینج کی طرف لے کر آئے ہیں تاکہ کرنسی کی بنیادی قدر کو درست رکھا جا سکے، ماضی میں سابقہ حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خام مال کی درآمد کو مکمل ڈیوٹی فری کیا جا رہا ہے تاکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3 ارب ڈالر تک آ گیا جو مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا۔

مزید خبریں