اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(این آئی ٹی بی) کیلئے جاری مالی سال کے دوران 53 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی ہے، یہ فنڈز وزیراعظم آفس میں وزیراعظم کے کامیاب جوان پروگرام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی فراہمی کیلئے بروئے کارلائے جائیں گے، اجلاس میں کینو اورآم کی برآمدات کیلئے نظام الاوقات مرتب کرنے کے حوالہ سے …
مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت ای سی سی کا اجلاس، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے لئے 53 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(این آئی ٹی بی) کیلئے جاری مالی سال کے دوران 53 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی ہے، یہ فنڈز وزیراعظم آفس میں وزیراعظم کے کامیاب جوان پروگرام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی فراہمی کیلئے بروئے کارلائے جائیں گے، اجلاس میں کینو اورآم کی برآمدات کیلئے نظام الاوقات مرتب کرنے کے حوالہ سے وزارت تجارت اوروزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی کے قیام کی سفارش بھی کی گئی ہے جبکہ جاری مالی سال کیلئے وزارت دفاع اوروزارت داخلہ کے چارمختلف منصوبوں کیلئے 4 تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس پیرکویہاں کابینہ ڈویژن میں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقدہوا، اجلاس میں وفاقی وزیرصنعت وپیداوارحماداظہر، وزیراعظم کے مشیربرائے محصولات ڈاکٹروقارمسعود، مشیرپٹرولیم ندیم بابر اوروزیراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین نے شرکت کی،سٹیٹ بینک کے گورنررضاباقرنے ویڈیولنک کے ذریعہ اجلاس میں شرکت کی۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن کی درخواست پرنیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(این آئی ٹی بی) کیلئے جاری مالی سال کے دوران 53 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دی ، یہ فنڈز وزیراعظم آفس میں وزیراعظم کے کامیاب جوان پروگرام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی فراہمی کیلئے بروئے کارلائے جائیں گے۔۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے سم وسمارٹ کارڈزکی ملکی سطح پرتیاری کی سمری پراجلاس میں تفصیلی غورغوض ہوا، اجلاس کے صدرنشین نے تجویز کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کرنے اوردوہفتوں میں رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس تجویز کوآگے بڑھایا جاسکے۔وفاقی وزیرصنعت وپیداوارحماداظہرکمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن، ایف بی آر، اورسرمایہ کاری بورڈ کے نمائندے شامل ہوں گے۔اجلاس میں کینو اورآم کی برآمدات کیلئے نظام الاوقات مرتب کرنے کے حوالہ سے وزارت تجارت اوروزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی کے قیام کی سفارش بھی کی گئی، کمیٹی اس ضمن میں تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ گفت وشنیدکرے گی۔اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز پربشرایکس آئی ایس ٹی سے تیسری پارٹی کو ایک ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی اجازت دی گئی۔اجلاس میں پی آئی اے سی ایل (وزارت ہوابازی) کی جانب سے رضاکارانہ علیحدگی سکیم(وی ایس ایس) کیلئے حکومت پاکستان کے کیش سپورٹ سے متعلق سمری پیش کی گئی۔ اجلاس سمری کی اصولی منظوری کافیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں جاری مالی سال کیلئے وزارت دفاع اوروزارت داخلہ کے چارمختلف منصوبوں کیلئے 4 تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔







