مشیر وزیراعلی سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی نے سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122کے ہیڈکوارٹر کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور ادارے کے آپریشنل نظام کا براہ راست جائزہ لیا۔
مشیر وزیراعلی سندھ گیانچند ایسرانی کا سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122کے ہیڈکوارٹر کا اچانک دورہ

مزید خبریں
کراچی۔ 21 جولائی (اے پی پی):مشیر وزیراعلی سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی نے سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122کے ہیڈکوارٹر کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور ادارے کے آپریشنل نظام کا براہ راست جائزہ لیا۔منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں موجود رہ کر خود مختلف ایمرجنسی کالز سنیں، ان کی تفصیل ریکارڈ کی اور متعلقہ افسران کو ان کے حل کے لیے احکامات دیئے۔ گیانچند ایسرانی نے ریسکیو 1122 میں ایمرجنسیز پر فوری ردعمل کا خود مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر آپریشنز ریسکیو 1122 ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، جدید ایمرجنسی رسپانس سسٹم اور صوبہ بھر میں جاری ریسکیو خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کوروزانہ 28 سے 30 ہزار کالز موصول ہوتی ہیں جبکہ 900 سے 1000 ایمرجنسی واقعات پر عملی کارروائی کی جاتی ہے جبکہ ہفتہ وار 2 لاکھ سے زائد کالز کا جواب دیا جاتا ہے اور ہزاروں افراد کو بروقت امداد فراہم کی جاتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ 224 جدید ایمبولینسز صوبے بھر میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور ان کی نگرانی مرکزی کنٹرول روم سے ہوتی ہے۔
ریسکیو 1122 کے تحت فائر فائٹنگ، واٹر ریسکیو، اربن سرچ اینڈ ریسکیو اور میڈیکل ایمرجنسی سروسز بھی فعال ہیں۔ سیلاب، ڈوبنے کے واقعات، آگ لگنے، عمارت گرنے یا دیگر ہنگامی حالات میں تربیت یافتہ ٹیمیں فوری کارروائی کرتی ہیں۔ عملے کی استعداد بڑھانے کے لیے باقاعدگی سے تربیتی مشقیں اور ورکشاپس بھی منعقد کی جاتی ہیں۔اسی طرح جینڈر بیسڈ وائلنس ڈیسک میں بھی گھریلو تشدد، بچوں سے زیادتی، جنسی تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق کیسز پر کارروائی کی جاتی ہے۔
مشیر وزیراعلی سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی نے ادارے کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم اس ادارے کا دل ہے جسے مزید فعال اور موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے سخت ہدایات دیں کہ ایمرجنسی کالز پر فوری اور بروقت رسپانس ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ معاملہ آگ لگنے کا ہو، روڈ حادثے کا، طبی ایمرجنسی کا، سیلابی صورتحال کا یا جینڈر بیسڈ وائلنس سے متعلق کسی شکایت کا، عوام کو بروقت مدد فراہم کرنا ادارے کی اولین ذمہ داری ہے۔






