بیجنگ۔2جون (اے پی پی):پاکستان-چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل گرین ڈویلپمنٹ کوآلیشن (بی آر آئی جی سی) کی منعقدہ عبوری جنرل اسمبلی برائے اراکین میں نئے منتخب ہونے والے گورننگ بورڈ کو مبارکباد دی۔ یہ اسمبلی بیجنگ میں منعقد ہوئی اور زوم کے ذریعے عالمی سطح پر نشر کی گئی۔ اس کے انعقاد کا مقصد نئی پیش رفتوں کو سمو کر ہم …
مصطفیٰ حیدر سید کا نو منتخب بی آر آئی جی سی گورننگ بورڈ کا خیرمقدم، پاکستان کے کم کاربن مستقبل کے لئے نیگ شگون قرار

مزید خبریں
بیجنگ۔2جون (اے پی پی):پاکستان-چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل گرین ڈویلپمنٹ کوآلیشن (بی آر آئی جی سی) کی منعقدہ عبوری جنرل اسمبلی برائے اراکین میں نئے منتخب ہونے والے گورننگ بورڈ کو مبارکباد دی۔ یہ اسمبلی بیجنگ میں منعقد ہوئی اور زوم کے ذریعے عالمی سطح پر نشر کی گئی۔ اس کے انعقاد کا مقصد نئی پیش رفتوں کو سمو کر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا تاکہ کوآلیشن کے آئندہ مکمل اجلاس سے قبل تیاریاں مکمل کی جا سکیں۔
یہ چینی حکومت کے ایک واضح عزم کے تناظر میں بلائی گئی تھی تاکہ بی آر آئی جی سی کو بیلٹ اینڈ روڈ کے جغرافیے میں سبز ترقیاتی تعاون کے مرکز کے طور پر تیز تر بنایا جا سکے۔چین کی وزارت ماحولیات کے مشیر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ حیدر سید نے نو منتخب قیادت کو مبارکباد دی اور اس بات پر زور دیا کہ کوآلیشن چین کی صاف ٹیکنالوجی کی مہارت کو موسمیاتی خطرات سے دوچار معیشتوں کی سرمایہ کاری کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نےاس موقع پر کہا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں بیلٹ اینڈ روڈ گرین ڈویلپمنٹ کوآلیشن کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں جو چین، پاکستان اور وسیع تر عالمی جنوبی ممالک کے مابین کم کاربن اور سبز ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور غیر ملکی مشیر برائے وزارت ماحولیات میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کم متاثرہ بنانے کے لئے قابلِ تجدید توانائی کی سرمایہ کاری اور کم کاربن ٹیکنالوجی کو متحرک کرنے میں معاونت کرنے کا خواہاں ہوں۔
انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ پاکستان جو دنیا کے دس سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہوتا ہے اور اسے 2030 تک موافقتی مالیات (ایڈاپٹیاشن فنانس ) میں تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔ یہ خلا مضبوط جنوب-جنوب شراکت داریوں کے ذریعے پر کیا جا سکتا ہے۔
مندوبین نے بی آر آئی جی سی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا کہ وہ مشترکہ مالیاتی طریقہ کار ، خودمختار سطح پر سبز بانڈ منصوبہ بندی اور سرحد پار بنیادی ڈھانچے کے لیے ماحولیاتی خطرات کی جانچ کو ترجیح دے گا۔نئے منتخب شدہ گورننگ بورڈ نے شفافیت، نتائج کی نگرانی اور پیرس معاہدے کے معیارات سے ہم آہنگی پر زور دیا۔
رکن تنظیموں نے نئی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے لئے لائف سائیکل اخراج کے ڈیٹا سیٹس کے تبادلے اور بہترین عملیاتی طریقہ کار پر مبنی رہنما کتابچے مشترکہ طور پر شائع کرنے پر اتفاق کیا جن میں سرکلر اکانومی کے تحت خریداری، زرعی میتھین کے اخراج کو کم کرنے کے نظام اور سیلاب کے خطرے سے دوچار دریائی علاقوں کے لئے ابتدائی انتباہی تجزیات شامل ہیں۔
اس حوالے سے مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ یہ کوآلیشن کو “عالمی جنوبی ممالک کے لئے چینی ٹیکنالوجی اور مالیات تک رسائی کے لئے ایک مکمل مرکز بناتے ہیں جو سخت عالمی پائیداری کے معیارات پر بھی پورا اترتا ہے۔
2019 میں قائم ہونے والی بی آر آئی جی سی ، چین کی وزارت ماحولیات اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مشترکہ صدارت میں کام کرتی ہے اور حکومتوں، تحقیقی اداروں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے سٹیک ہولڈرز کو باہم جوڑنے والا ایک کثیر شراکت دار پلیٹ فارم ہے۔
اس کی عبوری جنرل اسمبلی کا نظام ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی مکمل جنرل اسمبلیوں کے درمیانی عرصے میں قیادت اور حکمتِ عملی کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہےتاکہ سبز ترقیاتی اہداف کو تسلسل اور تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے جن میں 150 سے زائد شراکت دار ادارے شامل ہیں۔








