مصنوعی ذہانت کی ترقی دنیامیں معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقوں کو نئی شکل دے رہی ہے ،میڈیا فیلو چائنا انٹرنیشنل پریس اینڈ کمیونیکیشن سینٹر محمد ضمیر اسدی

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل پریس اینڈ کمیونیکیشن سینٹر کے میڈیا فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کی تیز رفتار ترقی دنیا بھر میں میڈیا کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے جو معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقوں کو نئی شکل دے رہی ہے، یہ پاکستان اور چین جیسے سٹریٹجک شراکت دار ممالک کے لیے موقع فراہم کرتی …

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل پریس اینڈ کمیونیکیشن سینٹر کے میڈیا فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کی تیز رفتار ترقی دنیا بھر میں میڈیا کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے جو معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقوں کو نئی شکل دے رہی ہے، یہ پاکستان اور چین جیسے سٹریٹجک شراکت دار ممالک کے لیے موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے میڈیا نظاموں کے باہمی انضمام کو مضبوط کریں اور معیشت، ثقافت، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ڈیجیٹل تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں اور اے آئی پر مبنی میڈیا تعاون باہمی روابط کے ایک مضبوط ستون کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی کی بدولت لسانی اور ابلاغی رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہو رہا ہے، جدید اے آئی پر مبنی ترجمہ، سپیچ ریکگنیشن اور حقیقی وقت میں سب ٹائٹلنگ کی سہولیات چینی اور پاکستانی میڈیا ماہرین کو بغیر رکاوٹ کے رابطے کا موقع فراہم کرتی ہیں جس سے صحافتی مواد، دستاویزی فلمیں، انٹرویوز اور بریکنگ نیوز مختلف زبانوں میں فوری طور پر شیئر کی جا سکتی ہیں، اس سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بیانیہ بھی زیادہ باریک بینی اور ثقافتی حساسیت کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے نقطۂ نظر تک براہِ راست رسائی حاصل کرتے اور باہمی فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔

محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ اے آئی پاکستانی اور چینی میڈیا اداروں کے درمیان مشترکہ صحافت کو بھی فروغ دے سکتی ہے، ذہین ڈیٹا تجزیہ صحافیوں کو اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، صحتِ عامہ اور علاقائی روابط جیسے موضوعات پر مشترکہ تحقیق کے مواقع فراہم کرتا ہے، اس طرح کی ڈیٹا پر مبنی رپورٹنگ عوامی اعتماد کو بڑھاتی اور دونوں ممالک کے درمیان علمی شراکت داری کو اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی سے لیس میڈیا پلیٹ فارم اقتصادی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سمارٹ کنٹینٹ ریکمنڈیشن سسٹمز کے ذریعے کاروباری خبریں، سرمایہ کاری کے مواقع اور پالیسی اپ ڈیٹس مخصوص حلقوں تک مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکتی ہیں جس سے اقتصادی سفارت کاری کو تقویت ملتی ہے۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں غلط معلومات اور پراپیگنڈے کا مقابلہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے اے آئی پر مبنی فیکٹ چیکنگ، سینٹیمنٹ اینالیسس اور کنٹینٹ ویریفکیشن کے ذریعے مشترکہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے حوالے سے۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبادلے کے میدان میں بھی اے آئی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ذہین کنٹینٹ کیوریشن، ورچوئل نمائشوں اور انٹرایکٹو ڈاکیومنٹریز کے ذریعے دونوں ممالک کی ثقافت اور روایات کو نئی تخلیقی شکلوں میں پیش کیا جا سکتا ہے جو نوجوان نسل کو زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ مشترکہ اے آئی تربیتی پروگرامز، ورچوئل نیوز رومز اور ڈیجیٹل جرنلزم پلیٹ فارمز کے ذریعے دونوں ممالک کے صحافی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں جس سے میڈیا تعاون طویل مدت تک پائیدار بنے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی پر مبنی میڈیا تعاون دونوں ممالک کے وسیع تر وژن سے ہم آہنگ ہے جہاں ذمہ دار ٹیکنالوجی استعمال، اخلاقی رپورٹنگ اور جامع ڈیجیٹل ترقی کے مشترکہ معیارات وضع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا انضمام اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا سٹریٹجک ذریعہ بن سکتی ہے جو بہتر ابلاغ، معیاری صحافت، اقتصادی تعاون اور ثقافتی روابط کے ذریعے باہمی اعتماد اور شراکت داری کو مزید فروغ دے گی۔

 

مزید خبریں