مضبوط ادارے پائیدار معاشی ترقی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہیں، سیف الرحمان

لاہور۔29مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم ادارے کسی بھی ملک میں پائیدار معاشی ترقی اور سماجی استحکام کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں، حتی کہ وہ ممالک بھی جو معاشی کمزوریوں اور ساختی مسائل کا شکار ہوں، موثر پالیسی سازی اور اصلاحات کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ اتوار کو لاہور میں دبئی سے آئے پاکستانی …

لاہور۔29مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم ادارے کسی بھی ملک میں پائیدار معاشی ترقی اور سماجی استحکام کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں، حتی کہ وہ ممالک بھی جو معاشی کمزوریوں اور ساختی مسائل کا شکار ہوں، موثر پالیسی سازی اور اصلاحات کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

اتوار کو لاہور میں دبئی سے آئے پاکستانی نژاد سرمایہ کاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ دانشمندانہ پالیسی سازی، اسٹریٹجک اصلاحات اور ان پر مستقل عملدرآمد کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون، مالی معاونت اور تکنیکی مدد ایسے ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے جو وسائل کی کمی اور ادارہ جاتی خلا کا سامنا کر رہے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ممالک جہاں شفاف طرز حکمرانی، موثر ریگولیٹری نظام اور جوابدہ ادارے موجود ہوں، وہ اندرونی و بیرونی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مضبوط ادارے نہ صرف پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے جامع اور متوازن ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

سیف الرحمان نے مزید کہا کہ اگرچہ مختلف ممالک کو کئی نوعیت کے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں، تاہم دیرپا ترقی کا واحد راستہ اداروں کی مضبوطی، مستقبل بین پالیسیوں کا نفاذ اور عالمی تعاون سے بھرپور استفادہ ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے استحکام، لچک اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر وفد کے سربراہ مراد احمد حنیف نے کہا کہ عالمی شراکت داری اور اندرونی عزم کے امتزاج سے استعداد کار میں اضافہ، جدت اور معیشت میں تنوع کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اچھی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور شفافیت کو ترجیح دے کر حکومتیں طویل المدتی خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔