مضبوط بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ قومی حکمتِ عملی اور متحدہ ریاستی فیصلہ ناگزیر ہے، نوابزادہ جمال خان رئیسانی

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مضبوط بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے، بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ قومی حکمتِ عملی اور متحدہ ریاستی فیصلہ ناگزیر ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم اسی لئے متعارف کرائی …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مضبوط بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے، بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ قومی حکمتِ عملی اور متحدہ ریاستی فیصلہ ناگزیر ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم اسی لئے متعارف کرائی تھی تاکہ صوبوں کو ان کے وسائل اور اختیار پر حق مل سکے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کسی علیحدگی کی جنگ ہے اور کہا کہ ایوان میں موجود بلوچستان کے نمائندے اس بات کے گواہ ہیں۔نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے بلوچستان میں حالیہ سانحات پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے 2008 کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے حالات آج سے بھی زیادہ خراب تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد شہید سراج رئیسانی سمیت کئی محبِ وطن پاکستانیوں نے اس دور میں قومی پرچم تھاما، دھمکیاں برداشت کیں اور قربانیاں دیں، پاکستان کی وفاداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے شدت پسند عناصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بہادروں اور وفاداروں کی سرزمین ہے اور یہ کسی کے لئے ’’ کیک آف پیس ‘‘نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے خلاف سازش کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ سرزمین شہداء اور شیروں کی سرزمین ہے۔

انہوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کی جنہیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ منافقت کی زنجیروں کو توڑا جائے اور سچ بولا جائے۔ انہوں نے کہاکہ محض مذمتی قراردادیں اور تقاریر کافی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔

نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک آواز بنے اور کنفیوژن کا شکار ہونے کی بجائے ریاستی سطح پر مضبوط فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان کمزور نہیں اور نہ ہی اسے کمزور دکھانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے اور بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔