معاشی استحکام کیلئے پائیدار بنیادوں پراٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجہ میں ملکی معیشت مستحکم ہوگئی ہے اوراقتصادی اشاریوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، وزارت خزانہ

اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کیلئے پائیدار بنیادوں پراٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجہ میں ملکی معیشت مستحکم ہوگئی ہے اوراقتصادی اشاریوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، بین الاقوامی اداروں نے بھی ملکی اقتصادی استحکام کااعتراف کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) …

اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کیلئے پائیدار بنیادوں پراٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجہ میں ملکی معیشت مستحکم ہوگئی ہے اوراقتصادی اشاریوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، بین الاقوامی اداروں نے بھی ملکی اقتصادی استحکام کااعتراف کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کے تناسب سے مالیاتی خسارہ 1.4 فیصد سے کم ہوکر0.7 فیصدہوگیا، مالی سال کے ابتدائی 5 مہینوں میں ڈالروں میں اشیاء کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 4.8 فیصد اضافہ ہواہے جبکہ تجارتی خسارہ میں 32.42 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔وزارت تجارت کے اعداد وشمارکے مطابق نومبر میں برآمدات میں اضافہ کی شرح 9.6 فیصد اورتجارتی خسارہ میں 35.50 فیصدکی کمی ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہاکہ جولائی تااکتوبر حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی کاتناسب 73.5 فیصد رہا۔سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 238 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔29 نومبر2019ء تک بانڈز اورحکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری (پورٹ فولیو ) سرمایہ کاری کا حجم1.14 ارب ڈالر رہا۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، 16 اگست 2019ء کے بعد پاکستان کی سٹاک مارکیٹ دنیاء میں بہتر ین کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والی مارکیٹوں میں سرفہرست رہی ہے جہاں کے ایس ای 100 انڈکس میں 11300 پوائنٹس یا39 فیصد اضافہ ہواہے۔ترجمان نے بتایا کہ یکم جولائی سے لیکر 22نومبر تک سٹیٹ بنک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.4 ارب ڈالرکانمایاں اضافہ ہواہے۔حکومت نے ملک میں کاروبار اورسرمایہ کاری دوست ماحول کے قیام کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں ،جس کا عالمی سطح پراعتراف کیا گیا، کاروبارمیں سہولیات اورآسانیوں کے لحاظ عالمی بنک کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پاکستان نے 28 پوائنٹس کی بہتری دکھائی ہے۔ترجمان وزارت خزانہ نے بتایا کہ رواں سال ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت 50 فیصد اضافہ ہواہے۔ترجمان نے بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئی ہے، جولائی سے لیکر نومبرتک ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کی شرح میں گزشتہ مالی سال کے کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ترجمان نے کہاکہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کو کم کرنے پربھرپورتوجہ دی گئی جس کے نتیجے میں 2017-18ء کے مقابلے میں جب گردشی قرضوں کا ماہانہ 38 حجم ارب روپ اتھا اب اس میں 68 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے اوراس وقت اس کا حجم 12 ارب ماہانہ کے قریب ہے۔ترجمان نے کہاکہ ملک میں عوامی بہبود اورتعمیروترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے سرکاری شعبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں نمایاں بہتری لائی گئی،پی ایس ڈی پی کے 50 فیصد مختص فنڈز کی منظوری دی گئی اوراس کا اجراء ممکن بنایا گیا۔