معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، قرض میں 1,371 ارب روپے کمی

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی طرف گامزن ہے اور حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، قرض میں 1,371 ارب روپے کمی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط کے تسلسل، بہتر محصولات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے باعث مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی طرف گامزن ہے اور حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، قرض میں 1,371 ارب روپے کمی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط کے تسلسل، بہتر محصولات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے باعث مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ مؤثر پالیسی سازی اور مالیاتی نظم و ضبط نے معیشت کے مختلف شعبوں میں اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ترسیلاتِ زر، بڑی صنعتوں کی بحالی اور آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہے۔اقتصادی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ملکی معاشی استحکام میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے،

بڑی صنعتوں (LSM) کی بحالی نے صنعتی سرگرمیوں میں بہتری پیدا کی ہے،آئی ٹی ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق رپورٹ کے دوران ملکی قرضہ 1,371 ارب روپے کم ہوا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قرض میں یہ کمی اضافی مالی وسائل کو مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کے لیے استعمال کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت ممکن ہوئی۔اس اقدام سے ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات میں کمی واقع ہوئی ہے اور مجموعی اقتصادی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔وزارتِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پالیسی تسلسل، معاشی نظم و ضبط اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔