فیصل آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ سیاسی استحکام مثبت اور پائیدار پالیسیوں کی بدولت بہت جلد فیصل آباد کا شمار اس خطے کے تیزی سے ترقی کرنے والے اہم صنعتی، تجارتی اور کاروباری مراکز میں ہوگا اور اگرچہ علاقائی ممالک سے پاکستان کی تجارت صرف 5 فیصد ہے تاہم پائیدار معاشی استحکام کے لئے اسے کم …
معاشی استحکام کے لئے پاکستان کی تجارت 40 فیصد ہونی چاہیے،صدر فیصل آباد چیمبر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ سیاسی استحکام مثبت اور پائیدار پالیسیوں کی بدولت بہت جلد فیصل آباد کا شمار اس خطے کے تیزی سے ترقی کرنے والے اہم صنعتی، تجارتی اور کاروباری مراکز میں ہوگا اور اگرچہ علاقائی ممالک سے پاکستان کی تجارت صرف 5 فیصد ہے تاہم پائیدار معاشی استحکام کے لئے اسے کم از کم 40 فیصد ہونا چاہیے۔
ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں سے لیکر یورپ کے درجنوں ملکوں سے براہ راست منسلک ہو جائیگا جس سے دو طرفہ تجارت میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی معیشت کا حجم بہت بڑا ہے جس کے پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات بارے مجاز اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ چیمبر کا مطالبہ ہے کہ چین کو ان اکنامک زونز میں سو فیصد ایکویٹی کے ساتھ صنعتی یونٹ لگانے کی اجازت کی بجائے ان کیلئے مقامی پارٹنر کی شرط لازمی قرار دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سپیشل اکنامک زونز میں صنعتیں لگانے پر دس سال کی ٹیکس ہا لیڈے کے علاوہ مشینری کی درآمد پر بھی خصوصی چھوٹ دی جارہی ہے جس سے سرمایہ کار اس جانب راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل کے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے فیصل آبادچیمبر کا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ونگ تسلسل سے اپنی سفارشات تیار کر رہا ہے اسی طرح ایس ایم ای سیکٹر میں آنیوالے نئے لوگوں کی رہنمائی بھی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار کی وجہ سے فیصل آباد کی ٹیکسٹائل کی صنعت نے زبردست ترقی کی مگر آج بھی کپاس کی پیداوار میں کمی اور یارن کی قلت سے پیدا شدہ مشکل حالات کے باوجود ٹیکسٹائل ہی فیصل آباد کی پہچان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دہائیوں میں توانائی کی قلت اور مہنگائی کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں لیکن گزشتہ سالوں سے بجلی کی سپلائی میں بہتری آئی ہے تاہم اس کی قیمت اب بھی علاقائی ملکوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ہماری برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں سخت مسابقت کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کی پیداواری لاگت میں توانائی کا حصہ 30سے35 فیصد ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر سو فیصد ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ اس کی برآمد بھی کر رہا ہے جبکہ اس میں فیصل آباد کا حصہ 50 فیصد سے بھی زائد ہے۔








