اقوام متحدہ۔18نومبر (اے پی پی):افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب ڈیبورا لیونز نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے گہرے معاشی بحران سے ملک میں انتہا پسندی کا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بتایا کہ مقامی معیشت تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات اورہتھیاروں اور انسانی سمگلنگ میں اضافے کا امکان ہے …
معاشی بحران میں شدت سے افغانستان میں انتہا پسندی کا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔18نومبر (اے پی پی):افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب ڈیبورا لیونز نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے گہرے معاشی بحران سے ملک میں انتہا پسندی کا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بتایا کہ مقامی معیشت تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات اورہتھیاروں اور انسانی سمگلنگ میں اضافے کا امکان ہے بلکہ موجودہ صورتحال سے انتہا پسندی کے خطرے میں بھی اضافے کا بھی اندیشہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بینکنگ سیکٹر کا موجودہ مفلوج مالیاتی نظام ملکی معیشت کو غیر منظم غیر رسمی کرنسی کے تبادلے کی طرف دھکیل دے گا جو صرف دہشت گردی، سمگلنگ اور منشیات کی مزید سمگلنگ میں سہولت فراہم کر سکتا ہے اوریہ صورتحال پہلے افغانستان اور پھر خطے کو متاثر کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان میں داعش کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انتباہ گزشتہ روزافغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی جانب سےامریکی کانگریس کو لکھے گئے اس کھلے خط کے بعد کیا جس میں افغان وزیر خارجہ نے امریکا سے افغانستان کے اثاثوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت جس بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے وہ مالی عدم تحفظ ہے اور اس چیلنج کی بنیادی وجہ امریکی حکومت کا افغان عوام کے اثاثوں کو منجمد کرنا ہے ۔








