اسلام آباد ۔ 31 دسمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے معصوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری ریاستی دہشت گردی ،بھارت میں اقلیتوں بلخصوص مسلمان مخالف متنازعہ قانون سازی، ظلم اور جبرکے خلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی، کابینہ نے عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑنے پر وزیراعظم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے عالمی برادری کے تمام لیڈروں ،انسانی …
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 دسمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے معصوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری ریاستی دہشت گردی ،بھارت میں اقلیتوں بلخصوص مسلمان مخالف متنازعہ قانون سازی، ظلم اور جبرکے خلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی، کابینہ نے عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑنے پر وزیراعظم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے عالمی برادری کے تمام لیڈروں ،انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں، وزیراعظم جنوری کے پہلے ہفتے بنیادی ضرورت کی اشیاءپر 6ارب کی سبسڈی اور جنوری کے آخری ہفتے میں عام پسے ہوئے طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی معاونت کارڈ کا اجراءکرینگے، وزیراعظم نے 2020کو معشیت کے استحکام کا سال قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئے سال کے آغاز میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جن کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچایا جاسکے، رواں سال کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 73فیصد اور تجارتی توازن میں 43فیصد کمی ہوئی اور افراط زر بھی کم ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر میں 14 فیصد اور برآمدات میں 4.7فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے، نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں لایا جائے گا ،پارلمینٹ کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہکابینہ نے اجلاس کے آغاز میں گذشتہ تقریباً پانچ ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو اور معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کی شدید مذمت کی ۔ کابینہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر جاری ریاستی جبر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری ، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اور ادارے معصوم کشمیریوں کے خلاف جبر و ستم کا فوری نوٹس لیں۔ کابینہ نے نرنیدر مودی سرکار کی جانب سے اقلیتوں اور خصوصاً مسلمان مخالف متعارف کرائی جانے والی قانون سازی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار کی جانب سے اقلیتوں کو مٹانے کی غرض سے کی جانے والی یہ قانون سازی آر ایس ایس کے ہندوتوا، نسل پرست اور فسطائی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کا اقدام ہے۔ مفادعامہ کی غرض سے مختلف وزارتوں کی جانب سے لیے گئے اقدامات پر بریفنگ کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لئے بارہ ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں جن میں اساتذہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ملک میں خیالات اور آئیڈیاز کے فرو غ کے لئے آئیڈیا بنک قائم کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں "اظہار خیال”کے نام سے ایک اپلیکیشن بنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ "رابطہ آسان”کے نام سے عوام کی خدمت کے لئے سمارٹ ہیلپ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ خواتین اور خصوصاً بچیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے "بیٹی”کے نام سے اپلیکیشن تشکیل دی جا رہی ہے۔ عوام الناس کو ٹیکس کی معلومات کی آسان فراہمی کے لئے "پاکستان ٹیکس فائینڈر”اپلیکیشن مرتب کی جا رہی ہے جو ٹیکس گزاروں کو واجب الادا ٹیکس کے تعین میں مدد فراہم کرے گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اندرون ملک اور بیرونی دنیا میں ملکی سیاحت کے پوٹینشل کو اجاگر کرنے اور سیاحوں کو تمام ضروری معلومات کی فراہمی کے لئے وزارتِ اطلاعات کی جانب سے "ویلکم ٹو پاکستان”اپیلیکیشن کا اجراءکیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اب تک کابینہ میں مختلف وزارتوں کی جانب سے مفاد عامہ میں مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔ اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں میں شوگر ملز بند ہونے اور اس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس ضمن میں تفصیلی اجلاس طلب کیاہے۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23دسمبر کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کی سفارش کی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجود بھی نہ صرف تین سو یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کو تحفظ فراہم کیا ہے بلکہ زرعی شعبے سے متعلق چھوٹے کاشتکاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پریشر فیکٹر کی مد میں گذشتہ سال 2.7ارب روپے کا معاملہ اگرچہ عدالت میں ہے لیکن وزارتِ توانائی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ رقم صارفین کو فوری طور پرواپس کر دی جائے گی۔کابینہ نے نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ کے مجوزہ بل کی منظوری دی۔ کابینہ نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی فنانشل اسٹیٹمنٹ برائے مالی سال 2018کی اشاعت کی منظوری دی۔کابینہ نے ناروے شہریت کے حامل محمد اویس کی ناروے حکام کو حوالگی سے متعلق سے ناروے حکومت کی درخواست پر غور کیا ۔ محمد اویس پر ریپ اور گھریلو تشدد کے سنگین الزام عائد ہیں۔ اس ضمن میں کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے ذریعے معاملے کی انکوائری کرائی جائے۔سہیل احمد خان کی برطانوی حکام کو حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے کابینہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر /فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سے معاملے کی انکوائری کا فیصلہ کیا۔ سہیل احمد خان پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کابینہ نے محمد ہاشم رضا کو چیف ایگزیکٹو آفیسر سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو اقتصادی اعشاریوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں پچھلے سال کے مقابلے میں 73فیصد بہتری آئی ہے۔ ٹریڈ بیلنس میں چالیس فیصد کمی آئی ہے۔ پچھلے سال ٹریڈ بیلنس 13.4ارب ڈالر تھا جو کہ مالی سال 2019-20میں اب تک 8.0ارب ڈالر ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ برآمدات میں 4.7فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ گذشتہ مالی سال یہ اعدادو شمار 9.9ارب ڈالر تھے جو کہ اب تک 10.3ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ درآمدات گذشتہ سال (2018-19) میں 23.2ارب ڈالر تھیں جو کہ اس سال اب تک 18.3ارب ڈالر ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سروسز ٹریڈ بیلنس میں 6.6فیصد بہتری آئی ہے۔ ترسیلات زر گذشتہ سال کی سطح پر ہیں جو کہ اب تک 9.3ارب ڈالرتک پہنچی ہیں ۔ فارن ایکسچینج ذخائر میں 14فیصد بہتری آئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر ایکسٹرنل سیکٹر میں تمام اعشاریوں میں مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں اب تک 87ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پرائمری خسارے کو پرائمری سرپلس میں تبدیل کیا جائے تاکہ ہمیں قرضوں پر سود کی واپسی کے لئے مزید قرضے نہ لینے پڑیں۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایکسٹرنل و فسکل سیکٹر میں آنے والی بہتری سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کابینہ کو اس ضمن میں بڑی درجے کی مینوفیکچرنگ ( لارج اسکیل مینو فیکچرنگ)، افراط زر ، کور انفلیشن اور سینسیٹیو پرائس انڈیکس پر بھی تفصیلی طور پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 1268فیصد بہتری واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ سال (2018-19) میں غیر ملکی سرمایہ کاری محض 147ملین ڈالر تھی جو کہ اس سال اب تک 2006ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دیگر معاشی اعشاریوں میں کابینہ کو پالیسی ریٹ، نجی شعبے کو بنکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی ، زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی وغیرہ جیسے مختلف اعداد وشمار پر بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہایت نامساعد حالات میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں کے نتیجے میں معیشت نے استحکام حاصل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 2020میںمعیشت میں مزید استحکام آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ عوام معاشی استحکام کے ثمرات سے مستفید ہوں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ برآمدات اور دارآمدات کے فرق کو کم کرنے کے لئے حکومت نے برآمدات میں اضافے پر بھرپور توجہ دی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی عمل کو تیز کرنے سے معیشت مضبوط ہوگی اور نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ مہنگائی کے اثر سے کم آمدنی والے افراد اور غریب طبقہ کم سے کم متاثر ہو۔ اس ضمن میں حکومت کمزور طبقوں کو ریلیف فراہم کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس کفالت پروگرا م کے اجراءسے غریب عوام کو ریلیف میسر آئے گا۔ کمزور طبقوں کی صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی کے لئے حکومت صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کے دائرہ کار میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور ملاوٹ کی روک تھام کے لئے وفاقی حکومت ، صوبائی حکومتوں کی معاونت سے ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے۔ کابینہ نے شاہد سلیم خان کو منیجنگ ڈائریکٹر /چیف ایگزیکیٹو آفیسر آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے شدید سردی کی وجہ سے سڑکوں پرسونے والے افراد کے لئے چھت فراہم کرنے کے لئے پناہ گاہوں کے قیام ، لنگر خانوں کے قیام کے لئے وزیراعظم کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے قرار دیا کہ یہ اقدامات ریاست مدینہ کے عظیم مشن کی تکمیل کے لئے اہم قدم ہے، وزیراعظم کی ان طبقات کے ساتھ محبت ،ددر کے رشتے کو تقویت دی جائے گی۔ آئندہ سال کے آغاز پر ہی بنیادی ضرورت کی اشیاءکی رعائتی نرخوں پر یوٹیلٹی سٹوروں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ،جنوری کے پہلے ہفتے وزیراعظم بنیادی ضرورت کی اشیاءپر 6ارب کی سبسڈی کا پروگرام شروع کرینگے ،جنوری کے آخری ہفتے میں عام پسے ہوئے طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری جو ریاست کا فرض ہے اٹھانے جارہے ہیں اس میں مالی معاونت کارڈ کا اجراءکیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت ہر شہر میں ملٹی پل پناہ گاہیں کھولنے کا ارادہ ہے ۔ کابینہ کے اجلاس میںشوگر ملیں جو بند ہورہیں ہیں اور گنے کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل پر بھی بات چیت ہوئی ، ایک خصوصی کمیٹی سے کاٹن ،گنے اور مارکیٹ میں چینی کی قیمت کے حوالے سے حقائق حاصل کرینگے ۔کابینہ اجلاس میں نیب آرڈیننس ،نیب قوانین اور اسکے ساتھ جڑے بہتری کے روڈ میپ پر ان کیمرہ بریفگ ہوئی جس میں کابینہ اراکین نے اپنا اپنا نکتہ نظر کابینہ کے سامنے پیش کیا ۔وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ نیب آرڈیننس کے ذریعے کاروباری برادری کے راہ کے کانٹے چننے ہیں ،جب ملک میں سرمایہ کاری آئے گی تو روزگار پیدا ہونگے ،لوگوں کی قوت خرید بہتر اور مہنگائی کم ہوگی ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کفالت پروگرام میں ریاست کفالت کی ذمہ داری مختلف اقدامات کے ذریعے لیتی ہے ، فیملی ممبر کی تعلیم ،صحت کے لئے چھوٹے قرضے دیکر پاﺅں پر کھڑا کرنے کا پروگرام ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اندر سرکاری ملازمین سمیت 8لاکھ ایسے افراد تھے جو حق دار نہیں تھے ان کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پسے ہوئے طبقات کے لئے 160مختلف پروگرامات ہیں جو احساس پروگرام کے تحت ہیں اس میں حق دار کو حق دینے کے لئے وزیراعظم چاہتے ہیں کہ عام بندے کی ضروریات سے جڑے چیلنجز کو تحفظ دیں۔ 192ارب کے پروگرام کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔اس پروگرام کے فوائد اصل حقدار تک پہنچائیں جائیں ،ثانیہ نشتر کو زیادہ سے زیادہ وقت میڈیا کے لئے لے رہیں ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ منافقانہ سیاست اور گٹھ جوڑ ہے جو پاکستان کی سیاسی جڑوں کے اندر پھیلا کینسر ہے، کہتے کچھ اور کرتے کچھ ،قول اور فعل میں تضاد ہے جو اپوزیشن 11سال سے واویلا مچار رہی تھی کہ نیب قوانین میں ترامیم لائی جائیں اپنی اپنی دور حکومتوں میں ایسا کر نہیں سکے ، آج وہ ہی اپوزیشن شور مچارہی ہے جنہوں نے کسی نہ کسی طرح ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں جائے گا اس میں بحث ہوگی ، اپوزیشن اگر تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے تو اپوزیشن کا حق ہے، سینٹ میں پاس کرانے کے لئے اپوزیشن کا ساتھ ضروری ہے، حکومت اس کا زبردستی اطلاق کرنے نہیں جارہی جب پارلیمنٹ کی مہر لگے گی تو یہ قانون بن جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈی جی اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کیس سے متعلق بریفنگ دی ، ہم نے نہیں کہا تھا کہ عابد شیر علی کے والد نے کہا تھا کہ رانا ثناءاللہ کتنے افراد کے قاتل ،ان کے اثاثے ان کے رہن سہن سے مطابقت نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا کہ اے این ایف کو داغدار کرنے کے لئے میڈیا مہم چلائی گئی، ملزم فاتح ٹھہرا اور جو اس ملک کے مستقبل کی جنگ لڑنے والا ادارہ اسکا میڈیا ٹرائل میں استحصال کیا گیا ، اے این ایف آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو ملک سے نشے کی لعنت ختم کرنے کے مشن پر ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اے این ایف کے اس عزم کو سراہا کہ بلاتفریق پاکستان سے منشیات کے خاتمے کے لئے اپنا کام جاری رکھیں گے ، پاکستان کا اپنا تشخص اور تعارف دنیا میں منشیات کے حوالے سے کیا رہا ،عالمی تاثر کو ٹھیک کرنے کے لئے اس ادارے کا فعال کردار انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارے قانون کے تابع ہوتے ہیں قوانین کو موثر بنانا اور قوانین کا اطلاق حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس ملک کے ساتھ جڑا اداروں کا رول اور ذمہ داری حکومت ادا نہیں کرتی تو اداروں کا وجود خطرے میں آئے گا ۔







