اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی سفارش پر وزیر اعظم عمران خان نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، اب اسی میڈیکل بورڈ نے ان کی تازہ رپورٹس …
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی سفارش پر وزیر اعظم عمران خان نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، اب اسی میڈیکل بورڈ نے ان کی تازہ رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں واپس وطن بلانے کی تاکید کی ہے ۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے میڈیا کے بعض حلقوں میں میرے بیان کو تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، ہمارا ایک ہی بیانیہ ہے کہ مریض قیدی جو علاج کیلئے بیرون ملک گیا، بتایا جائے وہ کس ہسپتال میں داخل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو لندن گئے ہوئے 3 مہینے اور 13 دن ہو چکے ہیں، کیا میڈیا نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس ہسپتال میں داخل ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ وہ کیسے مریض ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنا طبی معائنہ نہیں کرایا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کی طرح پلیٹ لیٹس کے اتار چڑھاﺅ کی سنسنی خیز خبریں چلائی گئیں، حکومت نے جذبہ خیرسگالی کے تحت بیمار مریض کو ملک سے باہر علاج کیلئے باہر بھیجا تھا، حکومت چاہتی تھی کہ ان کا علاج ہو لیکن وہ ابھی تک کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جس میڈیکل بورڈ کے فیصلے کی بدولت نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی، اب وہی میڈیکل بورڈ کہہ رہا ہے کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کی بجائے سرٹیفکیٹس پیش کئے گئے ہیں اس لئے انہیں واپس لایا جائے۔








