معاون خصوصی برائے سیاسی امورنعیم الحق کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امورنعیم الحق نے کہاہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کے معیارزندگی کو بہتربنانے کیلئے حکومت ”احساس پروگرام“ شروع کریں گی، اس پروگرام کے ذریعے سماجی تحفظ کے پہلے سے جاری پروگراموں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزیراعظم یوتھ پروگرام اورپاکستان بیت المال کو ایک چھتری تلے لایا جائیگا۔یہ بات انہوں نے منگل کویہاں 13 ویں …

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امورنعیم الحق نے کہاہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کے معیارزندگی کو بہتربنانے کیلئے حکومت ”احساس پروگرام“ شروع کریں گی، اس پروگرام کے ذریعے سماجی تحفظ کے پہلے سے جاری پروگراموں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزیراعظم یوتھ پروگرام اورپاکستان بیت المال کو ایک چھتری تلے لایا جائیگا۔یہ بات انہوں نے منگل کویہاں 13 ویں سٹی پی پی ایف مائیکروانٹرپرینیورشپ ایوارڈ تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔پروگرام کا انعقاد سٹی بنک اورپاکستان تخفیف غربت فنڈ نے مل کرکیا تھا۔نعیم الحق نے کہاکہ ملک میں غربت کے خاتمے اوراس میں نمایاں کمی لانے کی کوششوں کو تقویت دینے کیلئے احساس پروگرام شروع کیا جارہاہے، افسوس کی بات ہے کہ ماضی کی حکومتوںنے گزشتہ 13 برسوںمیں معاشرے کے پسماندہ اوراقتصادی طورپرکمزور طبقات کو نظرانداز کردیا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان اس طبقے کو اوپر لانے اوران کے معیارزندگی کو بلند کرنے میں پرعزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کی ترقی اوراستحکام کیلئے وسائل کی منصفانہ تقسیم اورمعاشرے کے کمزوراورپسماندہ طبقات کو مواقع تک یکساں رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔معاشرے کے کمزوراورپسماندہ طبقات کو وسائل اور مواقع تک یکساں رسائی کو یقینی بنانے کییلئے موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریاں تن دہی سے سرانجام دے رہی ہے، حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈز کی فراہمی اورکم آمدنی والے افراد کو سستی رہائش فراہم کرنے کے منصوبے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔نعیم الحق نے کہاکہ احساس پروگرام کو تحصیل کی سطح تک توسیع دی جائیں گی جہاں مقامی حکومتیں ترقیاتی کام کرسکیں گی۔ تحصیل کی سطح پر مقامی حکومتوں کو وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا تاکہ یہ حکومتیں صحت اورتعلیم سے متعلق مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے کے قابل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تخفیف غربت کیلئے علیحدہ وزارت بھی قائم کرے گی، غربت اورپسماندگی کیلئے موجودہ حکومت کی کوششوں کی ماضی میں مثال نہیں ملے گی۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ بلاول بھٹوزرداری اورمیاں نوازشریف کی ملاقات کا مقصد صرف میاں نوازشریف کی کی بیمارپرسی نہیں تھی، یہ ایک سیاسی قدم ہے، دونوں جماعتیں ان دنوں ایک دوسرے کی حمایت کررہی ہیں،افسوس کی بات ہے کہ دونوں جماعتوں نے گزشتہ دہائی میں ملکی معیشیت کو تباہ کردیاہے۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ 70 برسوں میں حکمران طبقہ نے اپنے اقتصادی اورسماجی مفادات کوتحفظ دینے کیلئے کام کیا اوراس دوران معاشرے کے کمزوراورپسماندہ طبقات کو مکمل نظرانداز کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے اقتدارسنبھالنے کے فوری بعد عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کا آغاز کیا اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا۔ انہوں نے کہاکہ صحت، تعلیم اورسماجی خدمات تک رسائی آسان بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے، امیروں اورغریبوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا وزیراعظم عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد میں اہم ترجیح رہی ہے ، حکومت اس ضمن میں اقدامات کررہی ہے، ملک میں روزگارکے مواقع بڑھانے کیلئے مائیکروفنانس پر توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار میں بہتری کیلئے بھی کام ہورہاہے، رسد سے متعلق مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اورپسماندہ علاقوں میں خدمات کی فراہمی کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے کے کمزوراورپسماندہ طبقات کی بہتری کیلئے بزنس کمیونٹی کو حکومت کی کوششوں کا بھرپورساتھ دینا چاہئیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے کہاکہ غربت، ناخواندگی اورمالی وسائل میں رکاوٹیں نچلی سطح پر معیشیت کو ترقی دینے میں مشکلات کے بنیادی اسباب ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ کیلینڈرسال کے اختتام پرمائیکروفنانس بنکوں نے 26 لاکھ افراد میں 2.7 ارب روپے مالیت کے قرضہ جات فراہم کئے ہیں۔ تقریب سے پی پی ایف کے چیف ایگریکٹوآفیسر قاضی عیسیٰ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹے قرضوں کا دائرہ کار135 اضلاع تک پھیلایا گیاہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply