اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے بدھ کو پٹرولیم ڈویڑن میں ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کے وفود کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویڑن کے سیکریٹری اور سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والی کمپنیوں میں اینر گاس ٹرمینلز پرائیویٹ لمیٹڈ، اینگرو الینگی ٹرمینل لمیٹڈ ، ایکسن موبائل پرائیوٹ لمیٹڈ ، مٹسوبیشی کارپوریشن ، …
معاون خصوصی ندیم بابر کا ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کے وفود کے ساتھ مشاورتی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے بدھ کو پٹرولیم ڈویڑن میں ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کے وفود کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویڑن کے سیکریٹری اور سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والی کمپنیوں میں اینر گاس ٹرمینلز پرائیویٹ لمیٹڈ، اینگرو الینگی ٹرمینل لمیٹڈ ، ایکسن موبائل پرائیوٹ لمیٹڈ ، مٹسوبیشی کارپوریشن ، پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ، تبیر انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ، پاکستان ایل این جی ٹرمینل لمیٹڈ، گورنمنٹ ہولڈنگز (پی وی ٹی) لمیٹڈ اور انٹراسٹیٹ گیس سسٹم لمیٹڈ کے نمائندگان شامل تھے۔ اجلاس کا انعقاد پاکستان میں ایل این جی ٹرمینلز چلانے والی کمپنیوں اور اس شعبے میں آئندہ کی جانے والی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں سے مشورہ کرنے کے لئے کیا گیا تاکہ گیس ٹرانسمیشن کے لئے ڈیزائن، صلاحیت اور نظام الاوقات کے لحاظ سے اپنے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مشاورت کی جا سکے۔ معاون خصوصی نے ملک میں ایل این جی سپلائی ٹرمینلز میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کمپنیوں کی دلچسپی کو سراہا اور بتایا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ، گھریلو اور کمرشل صارفین کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ای اینڈ پی کے شعبے میں تیزی ، ایل این جی توانائی کی معاشیات اور اس کے استحکام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایل این جی ٹرمینل کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پیٹرولیم ڈویڑن کو اپنی رکاوٹوں سے آگاہ کریں تاکہ گیس کی فراہمی اور اس سے منسلک گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر کی تعمیر کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں دونوں فریقین کی جانب سے مثبت اور تعمیری تبادلہ خیال ہوا اور تمام کمپنیوں نے پاکستان میں جلد سے جلد ایل این جی ٹرمینلز تعمیر کرنے اور حکومتی کوششوں کو سراہا اور اطمینان کا اظہار کیا۔








