اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):بی بی سی نے سال 2020کیلئے دنیا بھر سے 100بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی ہے۔ اس سال 100ویمن فہرست میں وہ خواتین شامل ہیں جوحالیہ عرصہ کے دوران معاشرے میں تبدیلی لانے اور اثرات مرتب کرنے کی وجہ بنیں۔تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ اس سال بی بی سی کی …
معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر بی بی سی 100ویمن2020فہرست میں شامل

مزید خبریں
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):بی بی سی نے سال 2020کیلئے دنیا بھر سے 100بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی ہے۔ اس سال 100ویمن فہرست میں وہ خواتین شامل ہیں جوحالیہ عرصہ کے دوران معاشرے میں تبدیلی لانے اور اثرات مرتب کرنے کی وجہ بنیں۔تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ اس سال بی بی سی کی فہرست میں احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، فن لینڈ کی خواتین مخلوط حکومت کی سربراہ Sanna Marin اور کرونا وائرس ویکسین کی تحقیق کیلئے مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی کی سربراہ Sarah Gilbertشامل ہیں۔ یہ فہرست https://www.bbc.com/news/world-55042935 پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو تخفیف غربت، عالمی صحت و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے پر اس اعزاز سے نوازا گیا۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ کووڈ۔19کے اثرات نے ہمیں زندگی میں ایک بار موقع فراہم کیا ہے کہ ہم انصاف پسند دنیا کے قیام کیساتھ ساتھ غربت، عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران کا خاتمہ کرسکیں۔ اس کیلئے خواتین کو برابری کی سطح پر بااختیاری حاصل ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر عالمی صحت اور پائیدار ترقی کی علم بردار ہیں۔2018سے وہ تخفیف غربت کے پروگرام احساس کو چلا رہی ہیں جس کی بدولت موبائل فون بینکنگ، سیونگ اکائونٹس اور دیگر بنیادی وسائل کی فراہمی سے لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار میں بہتری آئی ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ہونے کی حیثیت سے ، ڈاکٹر ثانیہ نے پاکستان میں فلاحی ریاست کے قیام کیلئے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے عوام کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پالیسی کے مطابق بی بی سی کی 100ویمن ٹیم نے امیدواروں کی ایک شارٹ لسٹ تیار کی جوگزشہ 12ماہ کے دوران اہم خبروں کی سرخیاں بنیں، جن کی کہانیاں متاثر کن تھیں،جنہوں نے کچھ اہم حاصل کیا اور معاشرے پر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے۔اس کے بعد حتمی ناموں کا انتخاب کرنے سے قبل انہیں علاقائی نمائندگی، غیر جانبداری اور سال کے موضوع women who led change خواتین جو تبدیلی لائیں،کی بنیاد پر جانچا گیا۔








