معروف مصنفہ ایڈنا اوبرائن انتقال کر گئی،آئرلینڈ کے وزیر اعظم ،صدر اور وزراءکا اظہار افسوس

ڈبلن ۔29جولائی (اے پی پی):مشہور عالم آئرش مصنفہ ایڈنا اوبرائن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی۔ان کی عمر 93 برس تھی ۔ ان کی موت کی اطلاع ان کے پبلشرز فیبر بوکس نے ایکس پر پوسٹ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بروز ہفتہ 27 جولائی کو پر انتقال کر گئیں ۔ آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر …

ڈبلن ۔29جولائی (اے پی پی):مشہور عالم آئرش مصنفہ ایڈنا اوبرائن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی۔ان کی عمر 93 برس تھی ۔ ان کی موت کی اطلاع ان کے پبلشرز فیبر بوکس نے ایکس پر پوسٹ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بروز ہفتہ 27 جولائی کو پر انتقال کر گئیں ۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ آج ملک ایک آئیکن ، بہادر، باوقار، باوقار اور مقناطیسی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔وہ جدید آئرلینڈ کی سب سے مشہور اور معزز مصنفین میں سے ایک ہیں ۔

آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہیگنس نے کہا کہ انہیں اپنے عزیز دوست اوبرائن کی موت پر بہت دکھ ہوا ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جدید دور کی ممتاز مصنفین میں سے ایک اور سچائی کو بہادری سے بیان کرنے والی تھیں۔

سابق آئرش وزیر اعظم اور موجودہ وزیر خارجہ اور دفاع، مائیکل مارٹن نے کہا کہ اوبرائن نے ادب اور جدید آئرلینڈ میں ایک نئے دور کے آغاز میں مدد دی۔وزیر ثقافت کیتھرین مارٹن نے اوبرائن کو آئرش معاشرے میں ایک جدید قوت کے طور پر بیان کیا جس نے بے خوفی سے صنفی مساوات کے مقصد کو آگے بڑھایا۔ آئرش مصنفہ کا پہلا ناول "دی کنٹری گرلز”اشاعت کے بعد پادریوں کے کہنے پر ان کے آبائی ملک میں جلا دیا گیا اور اس پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ اوبرائن کو جان سے مار دینے کی گمنام دھمکیاں موصول ہوئیں ۔

"دی کنٹری گرلز”(1960) ناول ، باغی کیتھولک لڑکیوں کو جنسی ہراسیت سے سزائیں دینے کے بارے تھا جن سے اوبرائن اپنے بچپن میں خود بھی گزری تھی ۔ایڈنا اوبرائن کو آئرلینڈ سے 2018 میں صدارتی ممتاز سروس ایوارڈ دیا گیا۔اوبرائن 1930 میں مغربی آئرلینڈ کی کاؤنٹی کلیئر میں ایک قدامت پسند کیتھولک کاشتکار خاندان میں پیدا ہوئی ۔ اس کی تعلیم ایک کانونٹ سکول میں ہوئی اور پھر ڈبلن میں انہوں نے 1950 میں فارمیسی میں گریجویشن کی ۔ 2018 میں، ایڈنا نے بین الاقوامی ادب میں ممتاز پن/نیبوکوف ایوارڈ جیتا، 2021 میں،حکومت فرانس کی جانب سے انہیں ادب کا اعلی قومی اعزاز ’’آرڈر آف دی آرٹ اینڈ لیٹرز ‘‘عطا کیا گیا ۔ 2019 میں انہیں فرانس کا پرکس فیمینا خصوصی انعام ملا ۔

مزید خبریں