معرکہِ حق: قومی اتحاد اور مزاحمت کا فیصلہ کن باب
معرکہِ حق: قومی اتحاد اور مزاحمت کا فیصلہ کن باب

مزید خبریں
پشاور۔ 04 مئی (اے پی پی):معرکہِ حق کے دوران 22 اپریل سے 10 مئی 2025 تک جارح کے خلاف مثالی قومی اتحاد اور شدید مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کی حمایت میں اس وقت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی۔ معرکہِ حق کے دوران پنجاب اور آزاد کشمیر میں بھارت کے بلا اشتعال میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف پاکستانی فوج کے مختصر مگر بھرپور 72 گھنٹے کے طاقتور جواب نے علاقائی بالادستی کے فاشسٹ مودی کے پرفریب خواب کو چکنا چور کر دیا اور بھارت کے سکیورٹی ڈھانچے میں موجود وسیع دراڑیں بے نقاب کر دیں۔
تنازع کا آغاز گزشتہ سال 6 مئی کی رات کو ہوا جب بزدل دشمن نے احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکر گڑھ، مظفر آباد اور کوٹلی سمیت پاکستان کے متعدد سویلین مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری شہید ہوئے۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رات کی تاریکی میں بلا اشتعال حملے دشمن کی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف روایتی کردار میں جوہری صلاحیت کے حامل کروز میزائل استعمال کرنے کے باوجود اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہیں جس نے خطے میں تزویراتی استحکام کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیئے۔
گزشتہ سال مئی کے جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے براہموس میزائل سسٹم کی تعیناتی اور استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بریگیڈیئر محمود نے کہا کہ اس کے ذخائر کو پاکستان نے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈیٹرنس کی حدوں کو غیر قانونی طریقے سے آزمایا جاتا ہے جیسا کہ بھارت نے مئی کے تنازعہ میں کیا تو غلط فہمی کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
پہلگام فائرنگ کے واقعے، جس میں 26 سیاح ایک ‘فالس فلیگ آپریشن’ میں مارے گئے تھے اور جس کے بارے میں بڑے پیمانے پر یہ مانا جاتا ہے کہ اسے ‘را’ نے ترتیب دیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی سکیورٹی ناکامی، علیحدگی پسند تحریکوں کو چھپانے اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی سے عالمی توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جہاں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت شہید کیا جا رہا ہے اور خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاع میں جوابی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا اور دشمن کے متعدد جدید لڑاکا طیاروں بشمول رافیل طیاروں کو مار گرایا۔ بھارت نے پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے دشمن کے چار رافیل طیاروں کے ساتھ ساتھ ایک مگ-29، ایک ایس یو-30 ایم کے آئی، ایک میراج-2000 اور ایک ہیرون ڈرون گنوائے۔
اسی طرح ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم، براہموس میزائل سٹوریج کمپاؤنڈز، اور دشمن کے کئی بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے کامیاب آپریشن کے پیمانے اور گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔ بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ یہ پاکستان کی ایک نمایاں آپریشنل کامیابی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے یہ ثابت کر دیا کہ پاک فضائیہ فضاؤں کی بلا شرکت غیرے بادشاہ ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے کہا کہ معرکہِ حق جدید فضائی جنگوں میں ایک فیصلہ کن کیس سٹڈی ہے جہاں پاک فضائیہ نے درست نشانہ لگانے کی صلاحیت، کثیر الجہتی ہم آہنگی اور سائبر آپریشنز کا مظاہرہ کیا جس نے بھارتی فضائیہ کی عددی برتری کو بے اثر کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ پاک فضائیہ کی جانب سے رسائی، ہم آہنگی اور فیصلہ سازی کی رفتار پر لڑی جانے والی ایک منفرد فضائی جنگ تھی اور یہ کہ جدید جنگوں میں فاصلہ اب بچاؤ کی ضمانت نہیں رہا۔بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ تنازع 10 مئی کو پاکستان کے جوابی حملے ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کے آغاز کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ گیا جس نے دشمن کی کمر توڑ دی۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور بھارت کے اندرونی علاقوں میں متعدد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جن میں اڑی، نوشہرہ اور راجوری میں فوجی پوزیشنیں شامل تھیں جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی نے نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی طرف تبدیلی کا مظاہرہ کیا جس میں ریئل ٹائم انٹیلی جنس کے ساتھ درست حملوں اور تفویض کردہ اہداف کی تباہی کو یکجا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج نے دشمن کے ایس-400 میزائل سسٹم سمیت جدید فضائی دفاعی نظام کو کامیابی سے تباہ کیا اور روایتی جنگ میں اپنی برتری ثابت کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ معرکہِ حق نے جنوبی ایشیا میں جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کیا ہے جہاں ٹیکنالوجی، بیانیے پر کنٹرول اور فوری ردعمل نتائج کو اتنا ہی متاثر کرتے ہیں جتنا کہ روایتی طاقت۔ انہوں نے کہا کہ معرکہِ حق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے جو دشمن کے عزائم کو پوری قوت سے خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ برصغیر میں پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کا بنیادی حل نہیں نکلتا۔ انہوں نے کہا کہ امن ہی واحد پائیدار راستہ ہے جسے ضبط و تحمل، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام سے مشروط ہونا چاہیے۔ماہرین و تجزیہ کاروں کے مطابق معرکہِ حق کے دوران پاکستانی عوام کا جذبہ وہی تھا جس کا مظاہرہ 1965 کی جنگ کے دوران کیا گیا تھا۔ کراچی سے خیبر اور گوادر سے اسکردو تک پاکستانی عوام اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کی حمایت میں کھڑے رہے جبکہ گلوکاروں اور شاعروں نے حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے میں مدد کی۔








