معرکہ حق، بھارتی جارحیت، پاکستان کا صبروتحمل اور حق کا بول بالا

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):جنوبی ایشیا اپنی سیاسی، جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی پیچیدگیوں کے باعث ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس حساس خطے میں طاقت کا توازن، قومی مفادات اور علاقائی سیاست اس قدر باہم جڑے ہوئے ہیں کہ معمولی کشیدگی بھی پل بھر میں بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں شروع ہونے والے واقعات جو مئی میں دوجوہری طاقت رکھنے والے …

طارق عزیز

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):جنوبی ایشیا اپنی سیاسی، جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی پیچیدگیوں کے باعث ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس حساس خطے میں طاقت کا توازن، قومی مفادات اور علاقائی سیاست اس قدر باہم جڑے ہوئے ہیں کہ معمولی کشیدگی بھی پل بھر میں بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں شروع ہونے والے واقعات جو مئی میں دوجوہری طاقت رکھنے والے ممالک کے تصادم پرمنتج ہوئے، سے اس حقیقت کی واضح عکاسی ہورہی ہے۔

ان واقعات نے نہ صرف خطے کی سلامتی کی صورتحال کو متاثر کیا بلکہ سفارتکاری، بیانیے اور عالمی رائے عامہ کے محاذوں پر بھی ایک اہم امتحان کی صورت اختیارکرلی تھی۔ گزشتہ سال اپریل کے وسط سے شروع ہونے والے واقعات نے بتدریج ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کی۔ 22 اپریل2025 کو بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں وکشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والے حملہ میں کئی افراد ہلاک ہوئے، ماضی کی طرح اس باربھی بھارت نے بغیرکسی تحقیق اورثبوت کے اس حملے کا الزام فوری طور پر پاکستان پرعائد کردیا، 23 اپریل کو بھارت نے یک طرفہ طورپر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے جیسے سخت اقدامات کااعلان کیا جسے سفارتی سطح پرناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا، پاکستان نے پہلگام میں ہونے والے حملہ کی مذمت اورمتاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کااظہارکیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پہلگام میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کیا گیا، کمیٹی نے بھارتی اقدامات کویکطرفہ، غیر منصفانہ، سیاسی محرکات پر مبنی، انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا، قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اوربھارت کو ایسے المناک واقعات سے فائدہ اٹھانے کی بجائے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہئے، پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے،

پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر کشیدگی کی بھارتی کوششوں کا مقصد پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے،بھارت کو اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے الزام تراشی اور پہلگام جیسے واقعات کا منظم طریقے سے استحصال کرنے سے باز رہنا چاہئے،قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کی حامل اور مکمل طور پر تیار ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ردعمل میں بتایا کہ ہماری مسلح افواج ہر قسم کے چیلنج کے لیے تیار ہیں، کسی نے کوئی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو اس کا ماضی سے زیادہ برا حشر ہوگا اگر بھارت کے پاس پہلگام حملے کے ثبوت ہیں تو پیش کرے، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں بھارت نے 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، اس کے باوجود اگر وہاں دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

بھارت کی جانب سے بغیرکسی ثبوت اورتحقیق کے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کے بیانیہ اوربلااشتعال جارحیت کے دعوے کو بے نقاب کرنے کے لیے پاکستان نے میدانِ جنگ سے ہٹ کر منظم اور موثر سفارتی محاذ کھولا۔پاکستان نے فوری طور پر اقوامِ متحدہ اور اہم عالمی طاقتوں سے رجوع کیا، اور اس حقیقت کو مدنظر رکھا کہ عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا اس صورتحال میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، اس اقدام کا مقصد نہ صرف بھارت کے الزامات کو چیلنج کرنا تھا بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے ریاست کے طور پر پیش کرنا بھی تھا، پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کھل کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کی، امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر اہلکار ٹیمی بروس نے اس بات پر زور دیا کہ حملوں کے پس منظر میں حقائق جاننے کے لیے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری ضروری ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اس موقف کے بعد عالمی سطح پر بھارت کے لیے صورتحال پیچیدہ ہوگئی اس کے برعکس یہ موقف پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ثابت ہوا اور نئی دہلی پر ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا، برطانیہ میں بھی یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا۔ ہاؤس آف کامنز میں اس پر بحث ہوئی، جہاں دفترِ خارجہ کے وزیر ہیمش فالکنر نے وزیرِاعظم کے اس موقف کو دہرایا کہ کشیدگی میں کمی اور باہمی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس پیش رفت نے بھارت کو سفارتی سطح پر مزید دباؤ میں لا کھڑا کیا اور اسے بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا،7 مئی 2025کو صورتحال نے اس وقت خطرناک موڑ لیا جب بھارت نے بلااشتعال اورطاقت کے زعم میں’’آپریشن سیندور‘‘کے نام سے سرحد پار میزائل حملے اور کارروائیاں کیں جس میں متعدد سویلین اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے،بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘کے تحت دفاعی کارروائی کی،

جو تینوں مسلح افواج کے باہمی اشتراک کی ایک نمایاں مثال بنی،7 اور 8 مئی کی درمیانی شب فضائی اورزمینی کارروائیوں میں پاکستان نے بھارت کے جدید ترین طیارے مارگرائے جانے کے علاوہ اہم دفاعی تنصیبات کوکامیابی سے نشانہ بنایا جس کااعتراف اب عالمی سطح پربھی ہورہاہے،بھارت کی اشتعال انگیزکارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے نہایت ناپ تول کر عسکری اقدامات کیے جن کا مقصدنہ صرف اپنی صلاحیت کا اظہار کرنا تھا لیکن تصادم کو بے قابو حد تک بڑھنے سے روکنا بھی پیشِ نظر تھا،

پاک فضائیہ کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی اس وقت نمایاں طور پر سامنے آئی جب اس نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے جنگی طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مارگرایا، پاکستان نے نہایت احتیاط سے منتخب کیے گئے بھارتی عسکری اہداف جن میں کمانڈ سینٹرز اور سرحد کے قریب واقع اسلحہ ڈپو شامل تھے،پر انتہائی درست اور محدود نوعیت کے جوابی حملے کیے بھارت کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پر اندھا دھند حملوں کے برعکس، پاکستان کی یہ کارروائیاں غیر معمولی درستگی کے ساتھ انجام دی گئیں اور ان میں شہری آبادی کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا،بین الاقوامی برادری کی فوری مداخلت اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 10 مئی کو جنگ بندی قائم ہوئی، جس نے ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا۔ یہ مرحلہ اس بات کا غماز تھا کہ سفارتکاری اب بھی خطے میں امن کے قیام کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

اس پورے معرکے میں پاکستان کا ردعمل ایک بالغ اور ذمہ دار ریاست کی عکاسی کررہاہے، اشتعال انگیزی کے باوجود فوری اور جذباتی ردعمل سے گریز، عالمی قوانین کی پاسداری، اور شواہد کی بنیاد پر موقف پیش کرنا پاکستان کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ رہا۔ اس نے نہ صرف عالمی برادری کو اعتماد میں لیا بلکہ اپنے مؤقف کو شفاف انداز میں پیش کر کے سفارتی میدان میں بھی برتری حاصل کی۔معروف دفاعی تجزیہ نگارجنرل ریٹائرڈانعام الحق نے اے پی پی کو بتایا سٹریٹجک صبروتحمل کی اپنی ایک قدرہوتی ہے اوریہ قومی طاقت اوراستعداد سے مربوط ہوتی ہے،پاکستان اوربھارت کے درمیان صورتحال اگرخراب ہوتی ہے تو لڑائی کی صورت میں یہ لامحالہ جوہری ایکسچینج میں تبدیل ہوسکتی ہے

،پاکستان کواس امرکااحساس ہے اوراسی جذبہ کے تحت نیوکلیئراوورہینگ کے خطرات کوسمجھتے ہوئے پاکستان نے ہندوستان کی جارحیت کے جواب میں ہمیشہ صبروتحمل کامظاہرہ کیاہے اوراگرجواب دینے کی ضرورت آئی ہے توبڑاموثراورکیلیبریٹڈ جواب دیاگیاہے، پاکستان کے طویل المیاد سلامتی مفادات کیلئے یہ ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے بلاجوازاوربغیرثبوت کے الزامات اورجارحانہ اقدامات مئی 2025کے بعد قصہ پارینہ بن چکے ہیں،بھارت کے دفاعی حلقوں کوبھی اب بات کاادراک ہے کہ بغیرکسی شواہد اورالزامات کے پاکستان کوموردالزام ٹہرانا اورفوجی کاروائی کی طرف کمرباندھنے کادورگزرچکا ہے،مئی 2025کے معرکہ حق نے اس کاموثرسدباب کرلیاہے۔عسکری ماہرین کے مطابق یہ معرکہ اورآپریشن بنیان مرصوص نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کیلئے ایک اچھا قدم ثابت ہوچکا ہے، اسی معرکہ حق کی وجہ سے بھارتی روش تبدیل ہوئی ہے اور حال ہی میں بھارت میں دہشت گردی کاواقعہ ہواتھا لیکن ماضی کی طرح بھارت نے پاکستان کوفوری طورپرموردالزام نہیں ٹہرایا،پاکستان نے مئی میں جودفاعی اورسفارتی اقدامات کئے تھے اورجس میں بھارت کوبڑی ذک اٹھانا پڑی تھی اس کے بعدبھارت میں بھی اس بات کاادراک ہواہے کہ پاکستان کوئی آسان ہدف یا ترنوالہ نہیں،بھارت اب بغیرثبوت اورشواہد کےکسی بھی واقعہ میں پاکستان کو موردالزام نہیں ٹہراسکتا،

خطے اورعالمی سطح پرجوجذبات موجودہیں وہ بھی بھارت کی اس پالیسی کی حمایت نہیں کرتے کہ آپ بغیرکسی الزام،تحقیق یاثبوت کے پاکستان کے خلاف جارحانہ فوجی اقدامات کرے۔ بھارت کی سیاسی، سفارتی اوردفاعی ایسٹبلشمنٹ کواب اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔ معرکہ حق صرف عسکری میدان تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ بیانیے کی جنگ بھی تھی، پاکستان نے اس جنگ میں صبر، حکمت اور اصولی مؤقف کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ طاقت کا اصل استعمال وہی ہے جو انصاف اور سچائی کے تابع ہو اس کے برعکس جارحانہ بیانات اور بلاجواز الزامات نے بھارت کے طرزِ عمل پر کئی سوالات اٹھائے۔جنرل ریٹائرڈانعام الحق نے پاکستان کے صبروتحمل پرمبنی پالیسی کوسراہتے ہوئے کہاکہ عسکری لحاظ سے صبر،وضبط وتحمل کی پالیسی کو کمزوری وہی سمجھ سکتا ہے جوعسکری تعلیم سے بہرہ مندنہ ہوں،میں نہیں سمجھتا کہ بھارت کے دفاعی منصوبہ سازوں کواس کاعلم نہ ہو،ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کونظراندازکردیں،ہندوستان نے پاکستان کے صبروتحمل کی پالیسی کونظراندازکرنے کے نتایج معرکہ حق اورمعرکہ بقا میں دیکھ لئے ہیں

،مستقبل قریب میں ہندوستان اس طرح کی غلطی کااعادہ نہیں کرے گا،معرکہ حق کے دوران پاکستان کی صبروتحمل پرمبنی پالیسی موثر ثابت ہوئی ہے اوراس کے نتیجہ میں اس وقت جنوبی ایشیاء کے خطہ میں امن قائم ہے،انہوں نے کہاکہ پاکستان زمین،فضاء اورسمندروں میں بھارت کوبھرپوراورمکمل جواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے، پاکستان نہ صرف روایتی جنگ میں بھارت کے کسی بھی جارحانہ اقدام کاجواب دے سکتاہے بلکہ غیرروایتی طورپربھی اللہ تعالی کے فضل وکرم سے پاکستان کادفاع ناقابل تسخیرہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی اورعسکری قیادت کے عزم پہیم اورپاکستان کے عوام کی حمایت سے بھارت سمیت کوئی بھی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کے عوام، افواج اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ایک اہم خصوصیت رہی، متحد قومی بیانیہ سے نہ صرف داخلی استحکام مضبوط ہوا بلکہ بیرونی دباؤ کا موثر مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملی، یہ اتحاد اس بات کی علامت تھا کہ قوم اپنے اصولی موقف پر یکسو ہے۔ پہلگام حملہ کے بعدبھارت کی بلاجواز اور بلااشتعال کارروائی اورپاکستان کی جانب سے جوابی اقدامات کے حوالہ سے خیبرنیوز چینل کے ڈائریکٹرنیوز اینڈکرنٹ افئیرز مبارک علی نے بتایا کہ وہ اس صورتحال کوایک اورزاویہ سے دیکھتے ہیں، انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی اصل میں اپنی سفارتی اورسیاسی ناکامیوں پرپردہ ڈالنے کی مذموم کوشش تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں پہلگام واقعہ کی غیرجانبدارانہ انکوائری کامعاملہ ایک اصولی موقف تھا جس کوسفارتی حلقوں میں حمایت ملی تھی اوربھارت پردباؤ میں اضافہ ہورہاتھا،اس دوران جنوبی ایشیاء کے خطہ میں تبدیلیوں کاعمل جاری تھا، بنگلہ دیش سیاسی تبدیلیوں کے عمل سے گزررہاتھا، بنگلہ دیش میں اندرونی عوامل کی وجہ سے بھارت نواز رجیم کی تبدیلی بھارت کیلئے ایک بڑا سفارتی دھچکہ تھا اوراس سے علاقائی سیاست اورسفارت کاری میں بھارت پہلے ہی بیک فٹ پرچلاگیاتھا،اندرونی طورپربھی نریندرمودی کی حکومت تنقید کی زدمیں تھی، پہلگام حملہ کوپاکستان کے خلاف جارحیت کا جوازبنانادراصل سیاسی اورسفارتی خفت کومٹانے کی بھونڈی کوشش تھی جس میں اسے ناکامی،شرمندگی اورحزیمت کا سامناکرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ جارحیت کے پورے عرصہ میں بھارتی میڈیا نے عوامی رائے کو متاثر کرنے کیلئے تمام حربے اختیارکئے، معروف بھارتی نیوز چینلز اور ذرائع ابلاغ نے بھارتی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی تعداد کو نمایاں طور پر کم دکھایا، جبکہ جاں بحق افراد کو شدت پسند یا دہشتگرد قرار دیا گیا۔ بھارتی سوشل میڈیا اور بڑے میڈیا پلیٹ فارمز غلط معلومات کے پھیلاؤ کے مراکز بن گئے تھے۔ ان میں ایک جھوٹی خبر یہ بھی تھی کہ بھارتی بحریہ نے کراچی بندرگاہ کو تباہ کر دیا ہے، جسے بعد ازاں کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ عارضی طور پر ہیک ہو گیا تھا۔

ایک اور بے بنیاد دعویٰ یہ کیا گیا کہ پاکستان نے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر حملے کی کوشش کی، جسے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مکمل طور پر من گھڑت اور اشتعال انگیز قرار دے کر رد کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ معرکہ حق کے دوران نہ صرف عسکری اورسفارتی بلکہ بیانیہ سازی کے محاذپربھی پاکستان نےبھارت کوموثرجواب دیا ہے جسے تاریخ یادرکھے گی۔ معرکہ حق سے اس امرکی عکاسی ہورہی ہے کہ حق کی بالادستی محض طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ صبر، حکمت، سفارتی بصیرت اور اصولی موقف سے حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان نے اس آزمائش میں انہی اقدار کو اپنا کر نہ صرف ایک بڑے بحران کو سنبھالا بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت کو مزید مستحکم کیا، اس ذمہ دارانہ کردارکی وجہ سے ہی حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی اورامن مذاکرات کی ذمہ داری پاکستان کوسونپ دی گئی تھی، یہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی نقش پاء کی بہترین مثال ہے۔یہ معرکہ تاریخ میں ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں صبر نے اشتعال، حکمت نے جلد بازی اور اصولوں نے طاقت کے اندھے استعمال پر فتح حاصل کی۔

مزید خبریں