معصوم شہریوں کے خون سے کھیلنے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا حکومت بلوچستان

کومت بلوچستان نے گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین شٹل سروس کو ایک خودکش گاڑی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا یہ بزدلانہ دہشت گرد حملہ نہ صرف معصوم انسانی جانوں پر حملہ ہے بلکہ بلوچستان کے امن، استحکام اور شہری زندگی کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش بھی ہے ابتدائی اطلاعات کے …

کوئٹہ۔ 24 مئی (اے پی پی):حکومت بلوچستان نے گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین شٹل سروس کو ایک خودکش گاڑی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا یہ بزدلانہ دہشت گرد حملہ نہ صرف معصوم انسانی جانوں پر حملہ ہے بلکہ بلوچستان کے امن، استحکام اور شہری زندگی کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش بھی ہے ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس المناک واقعے میں 14 افراد شہید جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق شہداء میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ اکثریت عام شہریوں، راہگیروں، مسافروں اور دھماکے کے مقام کے قریب واقع گھروں کے مکینوں پر مشتمل ہے۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں والد، والدہ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں اس اندوہناک سانحے میں شہید ہوئے، جس نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا ہے واقعے کے فوراً بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا کوئٹہ کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا ہے۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد اور بہترین ممکنہ علاج کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 پہلے ہی سے نافذ ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے حفاظتی اقدامات پر مامور تھے دھماکے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں، رابطہ کاری اور صورتحال کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا سکے اس کے ساتھ ساتھ محکمہ داخلہ بلوچستان میں خصوصی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن سیل بھی فعال کر دیا گیا ہے تمام متعلقہ محکمے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو سروسز اور ضلعی انتظامیہ بھرپور انداز میں امدادی، سیکیورٹی اور ریسپانس آپریشنز میں مصروف ہیں دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ متعلقہ ادارے شواہد اکٹھے کرنے، علاقے کی کلیئرنس اور فرانزک تحقیقات کے عمل میں مصروف ہیں تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس گھناؤنے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے حکومت نے واضح کیا ہے کہ معصوم شہریوں کے خون سے کھیلنے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

 

مزید خبریں